1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر: قبطی مسیحی چرچ میں بم دھماکا، کم از کم بیس ہلاک

مصر کے نیل ڈیلٹا میں واقع ایک گرجا گھر میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بم دھماکے کے وقت گرجا گھر میں کئی لوگ ایسٹر سے پہلے کے اتوار کی خصوصی عبادات میں شریک تھے۔

مصر کی وزارت صحت کے ترجمان خالد مجاہد نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جس وقت نصب شدہ بم پھٹا، اُس وقت چرچ کا ہال عبادت گزاروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کئی میڈیا ہاؤسز زخمیوں کی تعدا پچیس اور چالیس کے درمیان بیان کرتے ہیں۔

طنطا شہر کے گرجا گھر میں یہ بم دھماکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب، مصر کی قبطی مسیحی کمیونٹی پام سنڈے کے مقدس دن کی عبادت میں مصروف تھی۔ ایسٹر سے قبل کے اتوار کو پام سنڈے کہا جاتا ہے اور اس موقع پر قبطی مسیحی یسوع مسیح کے ورود کا جشن مناتے ہوئے خصوصی مذہبی رسومات و عبادات کا اہتمام کرتے ہیں۔

مصری وزارت داخلہ نے بھی طنطا کے ایک گرجا گھر میں ہونے والے بم دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے جہاں یہ بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم اکیس انسانی جانیں ضائع ہوئیں وہاں یہ بھی کہا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا قوی امکان بھی موجود ہےکیونکہ کئی زخمی جان کنی کی حالت میں ہیں۔

مصری دارالحکومت قاہرہ کے ایک بڑے گرجا گھر کو بھی اسلام پسندوں نے گزشتہ برس دسمبر نشانہ بنایا تھا۔ اُس حملے میں دو درجن سے زائد انسان جاں بحق ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ مصر کی مجموعی آبادی میں قبطی مسیحیوں کا تناسب محض دس فیصد کے قریب ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مصر کے قبطی مسیحی برادری کو جہادیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قبطی مسیحیوں کا موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی کھلی حمایت ہے۔ مصر میں سن 2013 میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے اسلام پسند صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد سے مسلم عسکریت پسندی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔