1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر: دو جرمن سیاح خواتین چاقو حملے میں ہلاک

مصر کے ساحلی سیاحتی شہر الغردقہ میں ایک چاقو حملے کے نتیجے میں دو جرمن سیاح خواتین ہلاک ہو گئی ہیں۔ اس بات کی تصدیق مصر کے ایک سرکاری ادارے نے کر دی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے مصر کی ’اسٹیٹ انفارمیشن سروس‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بحیرہ احمر کے کنارے پر واقع شہر الغردقہ میں جمعہ 14 جولائی کو ہونے والے چاقو حملے میں چار دیگر غیر ملکی خواتین زخمی بھی ہوئیں۔ تاہم زخمی ہونے والوں کے نام یا شہریت ظاہر نہیں کی گئی۔

مصر کے ایک پرائیویٹ اخبار الشروق نے تاہم طبی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ چار زخمی ہونے والے غیر ملکیوں میں دو امریکی، ایک چیک اور ایک یوکرائنی شامل ہیں۔ صوبائی محکمہ صحت کی انڈر سیکرٹری ناگلا شاتا نے اس اخبار کو بتایا کہ چاروں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

قبل ازیں سکیورٹی ذرائع نے ڈی پی اے کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والی خواتین کا تعلق یوکرائن سے تھا۔ تاہم جرمن وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ اس امکان کو رد نہیں کر سکتے کہ چاقو حملے کا نشانہ بننے والوں میں جرمن بھی شامل ہیں۔ وزارت کی طرف سے جاری ہونے والے اُس بیان میں کہا گیا تھا، ’’ہم ابھی تک اس بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔‘‘

Ägypten Messerattacke in Hurghada (Reuters)

آن لائن جاری ہونے والی اس تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ہوٹل کے عملے نے مشتبہ حملہ آور کر لوہے کے ایک جنگلے میں قابو کر رکھا ہے

مصری وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے چھ سیاح اس حملے میں زخمی ہوئے۔ بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ چاقو حملے کا نشانہ بننے والی تمام خواتین ہیں۔ مصری وزارت داخلہ کے اس بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا اور اس سے حملے کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی تھی۔

بیس برس سے زائد عمر کے حملہ آور کے بارے میں خیال ہے کہ وہ قریبی ساحل سے چھپ کر ہوٹل کے احاطے میں داخل ہوا۔ آن لائن جاری ہونے والی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ ہوٹل کے عملے نے مشتبہ حملہ آور کر لوہے کے ایک جنگلے میں قابو کر رکھا ہے۔

ڈی پی اے کے مطابق ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم مصری پولیس کا کہنا ہے کہ قبل ازیں اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری الہسم نامی گروپ کی طرف سے قبول کی جاتی رہی ہے جو کالعدم تنظیم اخوان المسلمون سے تعلق رکھتی ہے۔