1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مصر جیسی صورتحال چین میں بھی ممکن ہے؟

تیونس اور مصر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے بعد چین میں بھی لاوا پک رہا ہے۔ آج کل انٹر نیٹ پر بڑے زور شور سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا چین میں بھی پُر امن انقلاب آ سکتا ہے؟

default

تیونس اور مصر میں ہونے والے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ تبدیلی انتہائی قلیل عرصے اور پُر امن طریقے سے بھی ممکن ہے۔ اس تبدیلی سے دنیا بھر کے نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔ چین کے ایک نوجوان ماؤ شیانگ ہو کا کہنا ہے، ’’مصر میں جمہوریت کی تحریک اُس بین الاقوامی تحریک کا ایک حصہ ہے، جس میں میڈیا بنیادی کردار ادا کر رہا ہےلیکن چین میں میڈیا حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔ ہماری سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ حکومت عرب ممالک سے متعلقہ خبرو‌ں کو سنسر کر رہی ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ عوام کو وہاں کے حالات سے آگاہی حاصل ہو۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے جذبات کا اظہار کیا جا سکتا ہے اور صرف ایک چنگاری سے پلک جھپکتے ہی احتجاج کی آگ بھڑک سکتی ہے۔‘‘

China Volkskongress in Peking Soldaten vor Große Halle des Volkes

لیکن 22 برس قبل چین میں انٹرنیٹ کے بغیر ہی ہزاروں نوجوان اور دانشور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔ اُن مظاہروں کا مقصد ملک میں سیاسی اصلاحات لانا تھا۔ تب مظاہرین پر فوج کی طرف سے فائرنگ کر کے تین ہزار افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

جہاں دُنیا بھر میں شمالی افریقہ کے سیاسی مظاہروں کی تعریف کی جا رہی ہے، وہاں بیجنگ حکومت ان سے پریشان نظر آتی ہے۔ چین میں بائیں بازو کی جماعت کی ترجمان سیما نان نے متنبہ کیا ہے کہ چین کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ملک میں ’پھول انقلاب‘ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سیما نان کے مطابق چینی عوام کو بھی انہی مسائل کا سامنا ہے، جن کا مصر اور تیونس کی عوام کو تھا۔ چین میں بھی بے روزگاری اور کرپشن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے رکن اور وکیل مو ژی سُو کا کہنا ہے کہ چینی مسلح افواج اب بھی پرامن انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ’’چینی افواج اور ریاست کے تعلقات ویسے ہی ہیں، جیسے مصر میں تھے۔ دونوں ممالک میں کئی عشروں سے مطلق العنان حکومتیں چلی آ رہی ہیں۔ لیکن مستقبل قریب میں یہ ناممکن لگتا ہے کہ مصر کی طرح کسی احتجاجی تحریک کا آغاز چین میں بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر چین میں یہی مطلق العنان حکومت قائم رہی تو مصر کے بعد چین کی باری بھی آ سکتی ہے۔‘‘

عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کا ایک انتہائی پسندیدہ قول ہے کہ سیاسی طاقت کا آغاز بندوق کی نالی سے ہوتا ہے اور لگتا یوں ہے کہ موجودہ حکومت اس پر عمل پیرا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: امجد علی

DW.COM