1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر: جرمن حکومت نے اسلحے کی برآمد پر پابندی لگا دی

مصر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مصر کوبرآمد کیے جانے والے جرمن اسلحے کی منظوری نہیں دے گی۔

default

جرمن وزیرِ خارجہ گیڈو ویسٹرویلے ایک پریس کانفرنس میں مصر کے حوالے سے جرمن حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے

مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف ہونے والے مظاہرے ہنوز جاری ہیں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت تک جاری رہیں گے، جب تک کہ صدر مبارک اقتدار سے علیٰحدہ نہیں ہو جاتے۔ مصری اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

بیاسی سالہ صدر مبارک کا موقف ہے کہ وہ رواں برس ستمبر میں ہونے والے انتخابات تک صدر کے عہدے پر براجمان رہیں گے۔ حکومتی عہدیدار مظاہرین کے نمائندوں اور اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ مصر میں حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور یہ کہ وہاں آزادانہ اور شفّاف انتخابات لازمی ہوگئے ہیں۔

Ägypten Kairo Proteste

مظاہرین نے صدر مبارک کے خلاف مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے

دوسری جانب جرمنی کی وزارتِ اقتصادیات نے کہا ہے کہ وہ مصر کو برآمد کیے جانے والے جرمن اسلحے کی منظوری نہیں دے گی۔ جرمن حکومت کے مطابق اس نے یہ فیصلہ مصری حکومت کی جانب سے صدر مبارک کے خلاف مظاہرے کرنے والوں پر تشدّد اور انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے احتجاجاً کیا ہے۔ جرمن وزارتِ اقتصادیات کے مطابق یہ پابندی غیر معینہ مدّت کے لیے ہے اور وہ اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اُس اسلحے کی برآمد کو روک دیا جائے، جس کی حکومت پہلے منظوری دے چکی ہے۔

دوسری جانب مصری حکومت کے مطابق مصر کا اسٹاک ایکسچینج آئندہ اتوار سے دوبارہ کھل جائے گا۔ واضح رہے کہ صدر مبارک کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے مصری اسٹاک ایکسچینج ایک ہفتہ سے زیادہ عرصے سے بند ہے۔ ستائیس جنوری کو اسٹاک ایکسچینج بند ہونے سے قبل مصری اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی تھی۔ قریباً دو ہفتوں سے جاری ان مظاہروں کی وجہ سے مصر میں کاروبار ٹھپ ہو کے رہ گیا ہے۔

Entwicklung der Unruhen in Ägypten Flash-Galerie

مصری حکومت نے حذبِ اختلاف کے ساتھ مذید مذاکرات کا عندیہ دیا ہے

ادھر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصر، شمالی افریقہ اور دیگر عرب ممالک میں جاری احتجاج اور شورش یورپ میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کا سبب بن سکتے ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی بحران ستائیس رکنی یورپی یونین کے لیے بالواسطہ خطرہ نہیں ہے تاہم اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ میں امن اور خطّے میں استحکام کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM