1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر اور یمن میں عوامی غیض و غضب جاری

مصر میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور صدر حسنی مبارک زیادہ سے زیادہ تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ یمن میں بھی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف ’یوم الغضب‘ منایا جا رہا ہے اور ملک گیر مظاہرے جاری ہیں۔

default

یمنی دارالحکومت میں احتجاج

گزشتہ شب مصری دارالحکومت قاہرہ میں صدر حسنی مبارک کے حامیوں کی جانب سے تحریر چوک میں جمع مظاہرین پر حملوں اور تصادم کے نتیجے میں مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ آج جب ایک بار پھر مبارک کے حامیوں نے حکومت مخالف مظاہرین پر پتھراؤ کی کوشش کی تو پہلی بار مداخلت کرتے ہوئے فوجی ٹینک درمیان میں آ گئے، جس پر مظاہرین نے فوج کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین مبارک کے جانے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

گزشتہ رات جو کچھ ہوا، اُس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ایک 29 سالہ مصری نوجوان محمد فاتی نے، جو مترجم کے طور پر کام کرتا ہے، بتایا:’’یہ لوگ منظم قتلِ عام کے ارادے سے آئے تھے۔ کل دو بجے سہ پہر سے لے کر آج علی الصبح چھ بجے تک ہم اُن کے گھیرے میں رہے۔ ہزارہا لوگوں کی ایک فوج تھی، جو ہمارے ساتھ لڑتی رہی۔ اِن میں کرائے پر مار پیٹ کرنے والے، جیل سے رہا کیے جانے والے قیدی، پولیس افسران اور سادہ وردی میں ملبوس سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔‘‘

Ägypten Unruhen in Kairo Panzer schützen Demonstranten

قاہرہ میں فوجی ٹینک مبارک کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان

فاتی نے بتایا کہ جہاں کچھ لوگوں کو پولیس نے اور کچھ کو پارلیمانی اراکین نے پیسہ دے کر مظاہرین پر حملے کے لیے بھیجا تھا، وہاں کئی ایک کو کاروباری شخصیات کی طرف سے رقوم ادا کی گئی تھیں۔ مظاہرین نے اِن میں سے کئی ایک کو وہاں موجود فوج کے حوالے کر دیا۔ مظاہرے میں شریک ایک اور شخص نے کہا:’’اِس انقلاب کا مقصد صرف حکومت کو رخصت کرنا نہیں ہے۔ معاملہ ہمارے وقار کا ہے۔ ہمیں انصاف چاہئے اور ہمیں اُن لوگوں کو سزا دینی چاہئے، جو اِس چوک میں ہولناک جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘‘

کل کی طرح آج جمعرات کو بھی مبارک کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم ہوا اور دونوں ایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے رہے۔ فوج اِس تصادم کو ختم کروانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فوج دونوں گروپوں کے درمیان آ گئی ہے اور اُس نے ایک 80 میٹر چوڑا بفر زون بنا دیا ہے۔ اِس طرح مصر میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے پہلی مرتبہ فوج نے کوئی مداخلت کی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے ٹی وی چینل سکائی نیوز سے باتیں کرتے ہوئے بتایا، اُنہوں نے مصری حکام پر زور دیا ہے کہ عوام کو فوج کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے۔ جرمنی نے یورپی یونین کے پانچ دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مطالبہ کیا ہے کہ مصر میں انتقالِ اقتدار جلد از جلد عمل میں آنا چاہئے۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی اور اسپین کے سربراہانِ مملکت و حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اقتدار کی منتقلی کے عبوری مرحلے کا اب آغاز ہو جانا چاہئے‘۔ یہ اعلامیہ فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے دفتر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

Flash-Galerie Proteste in Kairo

قاہرہ کے تحریر (آزادی) چوک میں احتجاج کا ایک منظر

اُدھر مصر کے سرکاری ٹیلی وژن نے خبر دی ہے کہ ’سیاسی جماعتوں اور قومی قوتوں‘ کے ساتھ مکالمت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے حالانکہ بڑے اپوزیشن اتحاد نے مبارک کے اپنا عہدہ چھوڑنے تک کسی بھی طرح کی بات چیت کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

مصری اپوزیشن قائد محمد البرادعی نے مذاکرات کی حکومتی پیشکش بغیر کسی قسم کی شرائط کے مسترد کر دی ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ پہلے صدر مبارک اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ مزید یہ کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے پہلے قاہرہ کے مرکزی تحریر چوک میں جمع مظاہرین کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔

البرادعی کی طرح ایک اور اپوزیشن رہنما ایمن نور نے بھی مبارک کے مستعفی ہونے تک مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ نور 2005ء کے صدارتی انتخابات میں مبارک کے خلاف صدارتی امیدوار بنے تھے اور اِسی اقدام کی پاداش میں چار سال کی سزائے قید بھی بھگت چکے ہیں۔

اِسی دوران امریکہ نے مصری مظاہروں کی رپورٹنگ کے لیے وہاں موجود بین الاقوامی پریس کے نمائندوں کو ہراساں کئے جانے کے سرکاری اقدامات کی مذمت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی نے کہا کہ مصر میں تشدد کے تازہ واقعات پر امریکہ کو تشویش ہے اور وہ اِن کی مذمت کرتا ہے۔

اُدھر یمن میں بھی آج ہزارہا شہری صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلے۔ دارالحکومت صنعاء میں تقریباً 20 ہزار مظاہرین ’یوم الغضب‘ منانے کے لیے جمع ہوئے اور اُنہوں نے بدعنوانی اور آمریت کے خلاف نعرے لگائے۔

Vor 20. Vereinigungsfeiern in Jemen

یمنی صدر علی عبداللہ صالح

اُن کے غیض و غضب کا ہدف علی عبد اللہ صالح عرب جزیرہ نما کے اِس غریب ترین ملک پرگزشتہ تیس سال سے بھی زیادہ عرصے سے حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تاہم اتنی ہی بڑی تعداد میں صالح کے حامی بھی صنعاء کی سڑکوں پر موجود تھے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔

اگرچہ صدر صالح نے عوامی مخالفت کو دیکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ 2013ء میں مجوزہ صدارتی انتخابات میں دوبارہ اِس عہدے کے امیدوار نہیں ہوں گے، اپنے بیٹے کو اب مزید اپنے جانشین کے طور پر آگے نہیں لائیں گے اور اپوزیشن کوانتخابات کے لیے مناسب تیاری کا وقت دینے کی غرض سے اپریل میں مجوزہ انتخابات ملتوی کر رہے ہیں تاہم عوام کے لیے اتنا کچھ کافی نہیں ہے۔ ویسے بھی اُنہیں ڈر ہے کہ صدر صالح اپنے وعدوں سے پھر جائیں گے، اِسی لیے وہ اُن پر اپنا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے حلیف صدر علی عبداللہ صالح کو فون کیا ہے اور کہا ہے کہ اُنہوں نے ملکی صورتِ حال پر اچھے طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس