1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر: الیکشن وقت پر، نیا وزیر اعظم نامزد

مصر کی حکمران فوجی کونسل نے الیکشن شیڈیول پر کروانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ حکمران فوجی کونسل نے مبارک دور کے وزیر اعظم کو عبوری دور کے لیے سویلین حکومت کا وزیر اعظم نامزد کیا ہے۔

default

مصر کی حکمران عسکری کونسل نے معزول صدر حسنی مبارک کے دور کے ایک سابق وزیر اعظم کو سویلین حکومت کا سربراہ مقررکیا ہے۔ نئے وزیر اعظم کمال الجنزوری ہوں گے۔ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کی فوجی حکومت کی پیشکش کو قبول کر لیا ہے۔ الجنزوری سن 1996سے 1999 تک مصر کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے منصب کو قبول کرنے سے قبل الجنزوری نے فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی سے ملاقات بھی کی۔ نئے وزیر اعظم عصام عبدالعزیر شرف کی جگہ منصب سنبھالیں گے۔ مظاہروں کی وجہ سےعصام حکومت مستعفی ہو چکی ہے۔

Kairo Proteste Tahrir Platz gegen Militärrat in Ägypten

قاہرہ کے التحریر چوک میں نماز ادا کی جا رہی ہے

 التحریر چوک کے مظاہرین نے سویلن حکومت میں تبدیلی کو قبول نہ کرتے ہوئے آج جمعے کے روز ایک اور احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ مصر کی مزدوروں کی آزاد تنظیم ٹریڈ یونین فیڈریشن نے آج جمعے کی ریلی میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ دائیں بازو کی ایک اور لیبر یونین نے بھی آج کی ریلی میں پوری قوت سے شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

فوجی کونسل کے ساتھ ملاقات کرنے والی سیاسی جماعتوں نے التحریر چوک کے مظاہرین سے معافی کا اعلان کرتے ہوئے میٹنگ میں شریک ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بعض طالب علم مظاہرین نے الجنزوری کی نامزدگی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوان قیادت کے حامی ہیں اور بزرگ لیڈروں کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔

مظاہرین اب فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کے خلاف مقدمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طنظاوی بیس برس تک حسنی مبارک کے وزیر دفاع بھی رہ چکے ہیں۔ مصر کے تازہ مظاہروں میں اب تک انتالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Flash-Galerie Tahrir Platz Ägypten

مظاہرین پولیس پر پتھراؤ سے گریز نہیں کرتے

مظاہرین کے غصے کو کم کرنے کے لیے فوجی کونسل نے پیر کے روز سے شروع ہونے والے انتخابات کو مؤخر کرنے کی مختلف آراؤں کو رد کرتے ہوئے انہیں وقت مقررہ پر  ہی کروانے کا اعلان کیا ہے۔ عصام شرف حکومت کے وزیر داخلہ منصور العیسوی نے 28 نومبر کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی۔ مصر میں تین ماہ کے عرصے پر محیط انتخابی عمل کا آغاز اگلی پیر سے ہو رہا ہے۔ مبصرین کے خیال میں انتخابات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ مذہبی جماعت اخوان المسلمین اور فوج کی حامی جماعتوں کی جانب سے متوقع ہے۔ اس باعث یہ دونوں طبقے انتخابات کے اٹھائیس تاریخ سے انعقاد کے حامی ہیں۔

مصر میں جاری مظاہروں نے اسٹاک مارکیٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حصص کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مصری کرنسی پاؤنڈ کی قدر میں سن 2005 کے بعد سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی اسٹیڈرڈ اینڈ پُوورز نے مصر کی ریٹنگ کو ڈبل بی (BB) سے سنگل بی (B) کر دیا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  عاطف بلوچ

DW.COM