1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر : آئینی اصلاحات پر غور، خصوصی کمیٹی پر اتفاق رائے

مصر کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس کے تحت ملک میں آئینی اصلاحات کے لیے غور کیا جائے گا۔ تاہم اپوزیشن نے ابھی تک ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

default

مصر کے نائب صدر عمر سلیمان

مصر میں حکمران پارٹی میں اعلیٰ قیادت کے استعفوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ مصر میں اپوزیشن اخوان المسلمین پہلی مرتبہ حکومت ساتھ براہ راست مذاکرات کا حصہ بن رہی ہے۔ مذاکرات کے ابتدائی دور کے بعد اگرچہ ایک کمیٹی بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے تاہم ساتھ ہی یہ امر بھی واضح ہوا ہے کہ اپوزیشن ملک میں سیاسی بحران کے حل کے طریقہ کار پر حکومت سے اختلاف رکھتی ہے۔

مصری نائب صدرعمر سلیمان نے اپوزیشن جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد کی سربراہی کی۔ سرکاری خبر رساں ایجسنی MENA کے مطابق اس ابتدائی ملاقات میں فریقین نے ملک کو بحرانی صورتحال سے نکالنے کے لیے کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن بالخصوص ممنوعہ جماعت اخوان المسلمین کو حکومت کی نیک نیتی پر شک ہے۔ ان مذاکرات میں دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کے وفود بھی شامل رہے۔

دوسری طرف محمد البرادئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ بحران کے حل کے لیے مناسب حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو ملک خانہ جنگی کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے حسنی مبارک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں۔

Mideast_Egypt_LLP112_270871602022011.jpg

مصر میں اپوزیشن صدر حسنی مبارک سے فوری مستعفی ہونے کے مطالبے پر قائم ہے

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اپوزیشن اب بھی اپنے مطالبات پر قائم ہے کہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے صدر حسنی مبارک کو صدرات کی کرسی کو خیر باد کہنا ہو گا۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اخوان المسلمین کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کی محتاط انداز میں حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن حکومت اس بات کا بغور جائزہ لے گی کہ یہ مذاکرات کس سمت جاتے ہیں۔

مصر میں منظم اور سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی اخوان المسلمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے جذبات کا خیال کیا جائے اور ملک میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق مصر میں گزشتہ قریب تین ہفتوں کے دوران بھڑکنے والے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم تین سو افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

دریں اثناء جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا ہے کہ مغربی ممالک عرب دنیا میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات کے حق ہیں تاہم اس صورتحال میں انتہا پسند عناصر کو اپنے نظریات کے پرچار کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

اتوار کو جرمن شہر میونخ میں سلامتی کانفرنس کے دوران ویسٹر ویلے نے کہا کہ مصری عوام کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہاں حکمرانی کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ انہوں نے کہا اس حوالے سے مغربی ممالک ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔

Münchner Sicherheitskonferenz - Westerwelle

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے

اس کانفرنس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ مصر میں عوامی انقلاب مطلق العنان طاقتوں کے لیے ایک سبق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی رہنماؤں کو عوام کی مشکلات کا احساس ہونا چاہیے تاکہ ان کے ممکنہ حل تلاش کئے جا سکیں۔ بان کی مون نے کہا کہ مصر میں منتقلی اقتدار کا کامیاب عمل مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظر نامے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM