1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مصری ملکہ کے مجسمے پرایک بار پھر تنازعہ

جرمنی اور مصر کے درمیان مصر کے اس سرکاری اعلان کے بعد ایک بار پھر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے، جس میں اس نے جرمنی سے مصری ملکہ نیفر تیتی کے مجسمے کی واپسی کی درخواست کی ہے۔

default

تین ہزار تین سو برس پرانے مصری ملکہ کے اس مجسمےکی واپسی کی درخواست کے فوراﹰ بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ درخواست مصری حکومت کی جانب سے با ضابطہ مطالبہ ہے یا پھر یہ صرف مصرکی اعٰلی کونسل برائے آثار قدیمہ کی جانب سے کی جانے والی درخواست ہے۔

Neues Museum Berlin, Nofretete

اس مجسمے کو برلن کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے

جرمن حکام کے مطابق مصری ملکہ کے اس نیم مجسمے کی واپسی کے مطالبے کے لیے حاصل ہونے والے خط پر صرف محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ اور نائب وزیر ثقافت ذاھی حواس کے دستخط ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا بھی کہنا ہےکہ چونکہ اس خط پر مصری وزیراعظم کے دستخط نہیں ہیں اس لیے یہ خط غیر سرکاری مانا جائے گا۔ تاہم ذاھی حواس کا اصرار ہے کہ اس خط پر مصر کے وزیر اعظم احمد نظیف نے بھی دستخط کیے ہیں۔

Neues Museum Berlin, Nofretete

اس مجسمے کو دیکھنے ہر سال لاکھوں شائقین آتے ہیں

مصری ملکہ نیفر تیتی کا یہ مجسمہ اس وقت برلن کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے، جسے دیکھنے ہر سال لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ جرمن سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ باقاعدہ قانونی طور پر سن 1913 میں جرمنی نے حاصل کیا تھا اور یہ اتنا نازک ہے کہ اسے اس کی جگہ سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ جبکہ مصری حکام اس اصرار کے ساتھ کہ جرمنی نے یہ مجسمہ دھوکہ دہی سے حاصل کیا ہے، مسلسل اس کی واپسی کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

نیفرتیتی فراعین مصر کے 18ویں شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہیں نہ صرف ان کی خوبصورتی کی وجہ سے بہت زیادہ شہرت حاصل تھی بلکہ نفیر تیتی کو ان کے دور کی ایک غیر معمولی طاقت رکھنے والی خاتون سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ تاریخ میں ملکہ نیفز تیتی کو ان کے شوہر یا فرعون وقت اخناتن سے زیادہ شہرت کا حامل پایا گیا ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس