1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصری مظاہرین کو فوجی حکمرانوں کی تنبیہ

مصر میں حکمران فوج نے جمہوریت کے حق میں مظاہرے کرنے والے کارکنوں کے خلاف اپنا لہجہ مزید سخت کر لیا ہے۔ فوج نے ریاست کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا۔

قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق سرکاری ذرائع ابلاغ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایک ایسے منصوبے کا پتہ لگایا گیا ہےجس کے تحت آئندہ دنوں میں مظاہروں کو اس طرح استعمال کیا جانا تھا کہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے۔

مصری فوج کی طرف سے بدھ کے روز دیے جانے والے بیانات سے فوج کی وہ مہم اور بھی تیز ہو گئی جس کا مقصد بظاہر مصری مظاہرین کو عوام کی نظر میں غلط ثابت کرنا ہے۔ خبر ایجنسی AP کے مطابق فوج کی طرف سے تنبیہ، اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے کہ آئندہ دنوں میں سیاسی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شدید ہو جائے گا۔

مصر میں جمہوریت کے حق میں مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حسنی مبارک کے مستعفی ہو جانے کے بعد، اقتدار میں آنے والے جرنیلوں کو یہ اقتدار سول رہنماؤں کے حوالے کر دینا چاہیے۔

مصر میں اس سال فروری میں فوج حکمران فوجی کونسل کی شکل میں اقتدار میں آئی تھی۔ مصری فوج نے جمہوریت نواز مظاہرین کو جو تنبیہ کی ہے اس سے پہلے کم ازکم چار روز تک قاہرہ میں مظاہرین کی فوجیوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ان جھڑپوں کے دوران سرکاری دستوں نے کابینہ کے صدر دفاتر اور ملکی پارلیمان کے سامنے مظاہرین کے احتجاج کو ختم کرانے کی کوشش کی تھی۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران چودہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ مصر میں ان حالیہ واقعات کے بعد اس وقت کچھ سکون ہے لیکن ایک عبوری سیاسی دور سے گذرنے والے مصر میں مجموعی ماحول ابھی بھی بڑا کشیدہ ہے۔

Ägypten Frauen Demonstration Dezember 2011

جن مظاہرین نے ایک عوامی تحریک کے ذریعے اٹھارہ دنوں میں حسنی مبارک کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان کی فوجی جرنیلوں کے ساتھ تصادم کی صورتحال اور بھی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ کئی سیاسی کارکن یہ تجویز بھی دے چکے ہیں کہ فوج کو اگلے ماہ کے شروع میں اقتدار سول نمائندوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔ ان مظاہرین کے بقول یہ بھی ہو سکتا ہے مصر میں حکمران عبوری طور پر آئندہ منتخب ہونے والی پارلیمان کے سپیکر کے حوالے کر دی جائے یا پھر صدارتی انتخابات طے شدہ پروگرام سے بھی پہلے کروائیں جائیں۔

مصر میں حکران فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ قاہرہ میں نو منتخب پارلیمان کا پہلا اجلاس 23 جنوری کو ہو گا۔

Ausschreitungen Demonstranten Polizei Tahir Platz Kairo

مصر میں مبارک انتظامیہ کے خلاف عوامی تحریک کا ایک سال 25 جنوری کو پورا ہو گا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حکمران فوجی کونسل نے پچیس جنوری کی بجائے نئی پارلیمان کا اولین اجلاس 23 جنوری کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے کہ اس موقع پر 25 جنوری کے روز ممکنہ عوامی مظاہروں کے سیاسی اثرات سے بچا جا سکے۔

مصر میں جمہوریت نواز مظاہرین پر فوجی کریک ڈاؤن کی امریکہ سمیت کئی ملکوں نے مذمت بھی کی ہے۔ اس کی وجہ وہ مناظر بنے جن میں مصری فوجی خواتین مظاہرین کو اس طرح پیٹ رہے تھے کہ وہ آدھی برہنہ ہو گئ تھیں۔

مصر میں فوج کے اعلان کردہ ٹائم ٹیبل کے مطابق مارچ میں نئی پارلیمان کے پہلے اجلاس کے بعد ملک کے نئے آئین کی تیاری کا عمل شروع ہو گا۔ پھر نئے آئین کی منظوری کے بعد صدارتی انتخابات کرائے جائیں گے اور اقتدار جیتنے والے امیدوار کے حوالے کر کے اگلے سال جون کے آخر تک فوج سیاسی حکمرانی سے بالکل علیحدہ ہو جائے گی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM