1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصری فوجیوں پر کاربم حملہ، 23 ہلاک، چالیس زخمی

مصر کی فوج نے بتایا ہے کہ ایک خودکُش کار بم حملے میں اُس کے چھبیس فوجی مارے گئے ہیں۔ یہ حملہ جزیرنما سینائی میں واقع ایک گاؤں میں قائم چیک پوسٹ پر کیا گیا تھا۔

مصری سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ آج جمعہ سات جولائی کو جزیرہ نما سینائی میں واقع ایک چیک پوسٹ پر خودکش کار بم حملے میں چالیس سے زائد فوجی شدید زخمی بھی ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس حملے میں فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد دس سے بڑھ کر 26 تک پہنچ گئی ہے۔  مصری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں فوج کی اسپیشل سروسز کے کرنل احمد المنسی بھی شامل ہیں۔

یہ خودکش کار بم حملہ فلسطینی علاقے غزہ میں کھلنے والے سرحدی راستے الرفاح کراسنگ کے قریب واقع ایک گاؤں البرث میں قائم چیک پوسٹ پر کیا گیا۔ البرث کا گاؤں سینائی کے صحرائی علاقے میں ہے۔

Ägypten baut a der Grenze zu Gaza (Reuters/I. Abu Mustafa)

حودکش کار بم حملہ الرفح کراسنگ کے قریب واقع ایک گاؤں میں قائم چیک پوسٹ پر کیا گیا

اس کار بم حملے کے بعد نقاب پوش مسلح انتہا پسندوں نے مصری فوجیوں پر فائرنگ بھی کی۔ فوج نے چالیس حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس جھڑپ میں مصری فوج کے اپاچی ہیلی کاپٹر نے بھی نقاب پوش مسلح حملہ آوروں پر گولیاں برسائیں۔

 کسی گروپ نے ابھی تک اِس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔  ماضی میں جزیرہ نما سینائی میں ایسے حملوں کی ذمہ داری ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ وابستگی رکھنے والا ایک انتہا پسند گروپ کرتا رہا ہے۔ مصری خفیہ اداروں کو یقین ہے کہ اس حملے کے پس پردہ بھی یہی گروپ ہے۔

پچھلے کچھ عرصے کے دوران جزیرہ نما سینائی میں متحرک جہادی مختلف حملوں میں سینکڑوں فوجی ہلاک کر چکے ہیں۔ داعش سے وابستگی رکھنے والے گروپ نے قبطی مسیحیوں پر بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔