1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصری سیاست: البرادئی کے لئے اخوان المسلمون کی حمایت

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق سرابرہ اور نوبل انعام یافتہ شخصیت محمد البرادئی نے مصری سیاست میں قدم رکھ کر ملکی سیاسی افق پر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ انہیں اب اخوان المسلمون کی حمایت بھی حاصل ہو گئی

default

محمد البرادئی کا نام یا ان کی شخصیت عالمی سطح پر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ایک دہائی تک جوہری معاملات کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے کی سربراہی کے بعد وہ اب اپنے آبائی وطن میں منصب صدارت پر نگاہیں لگائے بیٹھے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مصر کا میدان سیاست آسان نہیں کیونکہ وہاں عوام کو حسنی مبارک کی ’جمہوری آمریت‘ کا سامنا ہے۔

پچھلی تین دہائیوں سے زائد عرصے میں کوئی بڑا حکومت مخالف رہنما مبارک کے اقتدار کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کر سکا۔ اول تو کوئی بڑے قد کاٹھ کا امیدوار ہی سامنے نہیں آیا اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایک انتہائی باوقار عالمی شخصیت نے مصر کے سن 2011 کے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ حسنی مبارک کی جانب سے ابھی یہ

Gamal Mubarak Sohn des Präsidenten Hosni Mubarak Ägypten

مصری صدر کے بیٹے جمال مبارک: فائل فوٹو

واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اگلے صدارتی الیکشن میں امیدوار ہوں گے یا نہیں۔ ان کو خرابی صحت اور زیادتیٴ عمر کا بھی سامنا ہے۔ مبارک اکیاسی برس کے ہو چکے ہیں۔

محمد البرادئی کے ملکی سیاست میں شمولیت اختیار کرنے اور نئی جمہوری اصلاحات متعارف کرانے کے اعلان سے حکومت مخالف حلقوں میں تازگی کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ برسوں سے حکومت مخالف کالعدم اخوان المسلمون نے بھی البرادئی کے سیاسی کیمپ میں پناہ لینے کا عندیہ دے کر مصر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مصر کے طول و عرض میں اخوان کے کارکن انتہائی منظم تصور کئے جاتے ہیں۔ تاحال البرادئی کے خیالات کسی طور بھی انتہاپسندی کی عکاسی نہیں کرتے۔ وہ ملک میں مغربی جمہوریت کے فروغ کی

Hosni Mubarak Afrikanische Union Gipfel in Scharm el Scheich Ägypten

مصر کے اکیاسی سالہ صدر حسنی مببارک: فائل فوٹو

تمنا رکھتے ہیں۔ انہوں نے کسی بھی شخصیت کے لئے زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ صدر منتخب ہونے کی حد مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

مصر کے حوالے سے ان کی ایک کتاب بھی شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے: ’البرادئی اور مصر میں سبز انقلاب کا خواب۔‘  اس کتاب کے پبلشر کو حکومت نے کچھ دیر کے لئے پابند سلاسل بھی کر دیا تھا۔ اس طرح البرادئی کی صورت میں ایک نیا حکومت مخالف سیاستدان میدان میں آ گیا ہے۔ مصر کے کئی دانشور حلقے اس پر اپنی مسرت کا کھلا بھی اور چھپ کر بھی اظہار کر رہے ہیں۔

 گزشتہ دنوں ان کے نوے سے زائد حامیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جن کو اب مصر کے چیف پراسیکیوٹر عبدالماجد محمودکی ہدایت پر ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے حکومتی ہتھکنڈوں پر تنقید بھی سامنے آئی تھی۔

مصر میں اگلے صدارتی الیکشن میں البرادئی کو عوامی سطح پر خاصا اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مصر کے صدر حسنی مبارک اپنے بیٹے جمال کو امکاناً امیدوار نامزد کر سکتے ہیں۔ جمال کو مصر کے کاروباری حلقوں میں خاصا پسند کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ آزاد تجارت کے بڑے حامی ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM