1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصری سرحد پر باڑ لگائی جا ئے گی: اسرائیلی فیصلہ

اسرائیل مصر کے ساتھ سرحد پر 270 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک باڑ تعمیر کرے گا، جس کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن اورعسکریت پسندوں کے اسرائیل میں داخلے کو روکنا بتایا گیا ہے

default

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی ریاست اپنی یہودی اورجمہوری پہچان کو سب سے مقدم رکھتی ہے اوراِسی کے دفاع کے لئے مصر کے ساتھ سرحد پر باڑلگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس باڑکی تنصیب کے بعد جدید ترین حفاظتی آلات کی مدد سے عسکریت پسندوں اور غیر ملکی پناہ گزینوں کی آمد کو روکا جائے گا۔

اس باڑ کی تعمیر کے فیصلے کی منظوری کے بعد اتوار کی رات اپنے ایک بیان میں نتن یاہو نے کہا کہ یہ اقدام ضروری ہو چکا تھا، تاہم اسرائیل آئندہ بھی انسانی بنیادوں پر ضرورت مند غیرملکی تارکین وطن کی مدد کرتا رہے گا۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ہزاروں غیر قانونی تارکینِ وطن افریقہ اور دوسرے خطوں میں مسلح تنازعات سے فرار ہو کر یا بہتر زندگی گذارنے کے لئے مصر کے ساتھ سرحد عبور کر کے اسرائیل میں داخل ہوئے۔ نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل جنگ زدہ علاقوں سے مہاجرین کی آمد کو نہیں روکے گا، تاہم ملک کے جنوبی علاقے سے شدت پسندوں اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے داخلے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سرحدی حفاظتی باڑ اسرائیل کی مصر کے ساتھ پوری سرحد پر، جو 266 کلومیڑ طویل ہے، تعمیر نہیں کی جائے گی بلکہ اس کی تعمیر صرف دو حصوں پر ہوگی۔

Palästinensische Kinder an der Grenze

سرحدی حفاظتی باڑ کی تعمیر کا یہ منصوبہ دوسال میں مکمل ہو گا

مصر میں سلامتی کے ذمہ دار حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس منصوبے کے بارے میں مصر کو قبل ازوقت آگاہ نہیں کیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ سرحدی تعمیراتی منصوبہ اسرائیل کا اندرونی معاملہ ہے، اوراگر یہ باڑ اسرائیلی سرحد کے اندر تعمیر کی جاتی ہے تو قاہرہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ مصر نے اس باڑ کے مسئلے پر ابھی تک سرکاری ردِعمل جاری نہیں کیا۔

مصر کے ساتھ اسرائیلی سرحدی علاقوں میں انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد، مصری پولیس نے بھی گزشتہ کئی مہینوں سے ان علاقوں کی نگرانی سخت کر رکھی ہے۔ گزشتہ سال مئی کے مہینے سے اب تک اس سرحدی علاقے میں مصری پولیس کی کارروائیوں میں 17 غیر قانونی تارکینِ وطن مارے جا چکے ہیں۔

سیکیورٹی خدشات کے نام پر اسرائیل مغربی اردن میں بھی فلسطینی علاقے کے ساتھ ساتھ ایک متنازعہ باڑ تعمیر کر رہا ہے۔ فلسطینیوں کو اس پر شدید اعتراض ہے، جو اس اقدام کو فلسطینی علاقہ ہتھیانے کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: مقبول ملک

DW.COM