1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصری ریفرنڈم: عوام کی اکثریت اصلاحات کے حق میں

ہفتے کے روز مصر میں ہوئے ریفرنڈم کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ سرکاری نتائج کے مطابق ستتّر فیصد عوام نے آئینی اصلاحات اور فوجی سے سویلین حکومت کی جانب پیش قدمی کی حمایت کی ہے۔

default

اٹھارہ اعشاریہ پانچ ملین افراد نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا

مصر کے چودہ ملین عوام نے فوجی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالے، جن کے مطابق اگلے چھ ماہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔ ڈالے گئے ووٹوں میں سے صرف چار فیصد اصلاحات کی مخالفت میں تھے۔

Ägypter stimmen über Verfassungsreform ab Oppositionspolitiker Mohammed El Baradei wird von Anhängern gegen Angriffe geschützt Ägypten Referendum Verfassung Kairo Flash-Galerie

نوبیل انعام یافتہ محمّد البرادعی بھی ووٹ ڈالنے پہنچے

ہفتے کے روز ہوئے ریفرنڈم میں ملک کے پینتالیس فیصد اہل رائے دہندگان میں سے اکتالیس فیصد، یعنی اٹھارہ اعشاریہ پانچ ملین ووٹرز نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ عوامی مظاہروں اور بغاوت کے نتیجے میں سابق صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد عبوری فوجی حکومت کی جانب سے کرایا گیا یہ ملک گیر ریفرنڈم تھا۔

Ägypten Kairo Proteste

اس سال کے آغاز میں شروع ہوئے عوامی مظاہروں نے حسنی مبارک کے تیس سالہ اقتدار کا خاتمہ کردیا

بعض افراد اور مبصرین کے مطابق فوجی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی اصلاحات ناکافی ہیں اور یہ کہ وہ مبارک حکومت کا تسلسل ہیں۔ بعض گروپس نے ریفرنڈم کی مخالفت کرنے کے لیے عوام کو سوشل نیٹورکنگ سائٹس کے ذریعے متحرک کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم ریفرنڈم کے نتائج آنے پر ان گروپس نے فراخ دلی سے اپنی شکست تسلیم کی ہے۔

عبوری حکومت کی جانب سے تجویز کردہ اصلاحات میں سے ایک میعادِ صدارت کو چار چار برس کے دو ادوار تک محدود کرنا ہے اور اس بات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ صدر کسی سویلین کا مقدمہ فوج کے حوالے کر سکیں۔

مصر کی مذہبی جماعتوں کی جانب سے ریفرنڈم کے نتائج پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے تاہم زیادہ تر نے نتائج کو تسلیم کیا ہے۔ امریکی حکومت نے مصری عوام کی جانب سے آئینی اصلاحات کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔ 

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM