1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصری دستور میں ترامیم کے لئے ریفرنڈم کی ’تاریخ طے‘

مصری فوج کے ذرائع کے مطابق ملکی دستور میں ترامیم سے متعلق ریفرنڈم کے لئے 19 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے آئین کی سات دفعات تبدیل کی جائیں گی۔

default

فرانسیسی خبررساں ادارے AFP نے مصری فوج کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ملک میں صورتحال اطمینان بخش رہی، تو یہ ریفرنڈم رواں ماہ کی 19 تاریخ کو منعقد کروایا جائے گا۔ تاہم ذرائع کے مطابق ابھی تک حکومت نے 19 مارچ کی تاریخ ہی طے کر رکھی ہے۔

Ägyptisches Museum Kairo Flash-Galerie

حسنی مبارک کے بعد فوج نے اقتدار سنبھالا تھا

دریں اثناء مصری کابینہ کے فیس بک پر موجود صفحے پر کہا گیا ہے کہ مصری دستور میں سات آرٹیکل تبدیل کئے جائیں گے۔ ریفرنڈم میں عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے دیا تو آئین میں سے ایک آرٹیکل کا خاتمہ اور تین دفعات کا اضافہ بھی عمل میں لایا جائے گا۔

گیارہ فروری کو حسنی مبارک کے مستعفی ہو جانے کے بعد فوج نے عبوری طور پر ملکی اقتدار سنبھال لیا تھا جبکہ آئین کو معطل اور پارلیمان کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملکی آئین میں تبدیلی کے لیے ایک کمیٹی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری ترامیم کے لیے تجاویز مرتب کرنا ہے۔ آئینی ترامیم کے ذریعے صدراتی مدت کم کر کے چار برس جبکہ زیادہ سے زیادہ یہ عہدہ صرف دو مرتبہ رکھنے کی حد کے تعین کی تجویز دی گئی ہے۔ مصر کے معطل شدہ قانون میں مدت صدارت چھ برس ہے اور کوئی شخص جتنی مرتبہ چاہے صدر بن سکتا ہے۔

نئی آئینی ترامیم میں صدارتی اختیارات میں کمی کی تجویز بھی دی گئی ہیں۔ اس تجویز کے مطابق آئین کی دفعہ 76 میں ترمیم کی جائے گی جبکہ آئین کی دفعہ 88 میں ترمیم کر کے عدلیہ کو انتخابات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

آئین کی دفعہ 93 میں تبدیلی کے ذریعے قانون سازوں کے انتخابات کے نتائج کے خلاف عدالت میں اپیل کا حق بھی تجویز کیا جا رہا ہے۔ معطل شدہ آئین کی دفعہ 189 میں بھی تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے مطابق دستور میں تبدیلی کے لئے تجاویز دینےکا اختیار صرف صدر اور پارلیمان کے اسپیکر کے پاس ہے۔

Revolution in Ägypten

آئینی ریفرنڈم کے بعد صدارتی اختیارات میں بڑی حد تک کمی متوقع ہے

ان ترامیم کے ذریعے صدر کے اس اختیار کو بھی ختم کیا جا رہا ہے، جس کے تحت صدارتی حکم نامے کے ذریعے کسی شہری پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس