1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصری جمہوریت پسندوں کا خواب چکنا چور

عرب اسپرنگ کے آغاز کو چھ ماہ گزرنے کے بعد مصر میں جمہوریت کی جنگ لڑنے والوں کے اندر پائی جانے والی خوش فہمی کافی حد تک دور ہونا شروع ہو گئی ہے۔

default

مصر میں جمہوریت کی جدوجہد اور انقلاب کے لیے لڑنے والے ایک بار پھر سڑکوں پر

وہاں عبوری ملٹری کونسل اپوزیشن کے خلاف اُسی انداز اور انہیں طریقوں سے نمٹ رہی ہے جو حسنی مبارک کی حکومت نے اختیار کیے ہوئے تھے۔ فروری کی گیارہ تاریخ کو مصری عوام قاہرہ کی سڑکوں پر نکل کر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کا جشن منا رہے تھے۔ چھ ماہ بعد وہ تمام جوش و خروش اور خوشی کا عالم ناپید ہو چکا ہے۔ مبارک دور کے خاتمے کے بعد سے مصر میں فوج اقتدار میں ہے۔ عوام کے جمہوریت کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ چھ ماہ سے زیادہ وہ اُن خوش فہمیوں میں نہ رہ سکے۔ فوج نے اب لوگوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہیں طریقوں سے جو حسنی مبارک کے وقت میں استعمال کیے جاتے تھے۔ 23 جولائی کو عباسیہ کے علاقے میں ایک پُرامن احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے لیے فوج نے دنگا فساد مچانے والے ایک گروپ کو بہیمانہ کارروائی کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں 300 افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کا ایک عینی شاہد محمد کمال کہتا ہے،’عباسیہ میں ہم نے محسوس کیا کہ مبارک حکومت ابھی وجود رکھتی ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ فوج اُن تخریب کاروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ ان بوالیوں نے ہمیں بہت زد وکوب کیا اور فوج خاموش تماشائی بنی رہی۔ اگر فوج چاہتی تو انہیں روک سکتی تھی‘۔

Flash-Galerie Ramadan in Ägypten nach der Revolution

رمضان میں سیاسی جماعتیں عوام کا دل جیتنے کی کوشش میں

اپوزیشن کے لیے 23 جولائی کو فوج کی طرف سے پیش کردہ اعلامیہ 69 سکتے کا باعث تھا۔ اس میں مصری فوج کے جرنیلوں نے چھ اپریل کی احتجاجی مہم، جس کا مقصد ملک میں جمہوریت کے نفاذ کی کوششیں تھا، کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی معافی مانگی تھی۔

جرنل الروائینی نے ٹیلی وژن پر ایک بیان دیتےکہا تھا، ’انسانی حقوق کے لیے لڑنے والے گروپس اور چھ اپریل کی ریلی میں شامل سرگرم عناصر غیر ملکیوں کے ایجنٹس تھے۔ یہ کوئی ایسے ویسے لوگ نہیں تھے بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے انقلابی مہم کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ غیر ملکی دشمن ایجنٹس اور افراتفری کی اصطلاح مصر کے لیے کوئی نئی نہیں ہے۔ اس قسم کا پروپیگنڈا حسنی مبارک کی زبانی اکثر سننے کو ملتا تھا۔

فوج نے اپنا ماسک اتار دیا ہے۔ یہ ماننا ہے بہت سے اپوزیشن عناصر کا۔ ایک معروف مصری ماہر سیاسیات کا کہنا ہے، ’اب بھی ہمارے ہاں انقلاب مخالف قوتیں موجود ہیں، جن کو ہمیں جیتنا ہے۔

Ägypten die Legitimität des Tahrir Platz

مشہور زمانہ التحریر اسکوائر

دوسرے یہ کہ ہمیں فوج کے حقیقی ارادوں کا علم نہیں ہے۔ مجھے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ فوج اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے، لیکن میں اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ فوج ایک ایسے نظام کو قائم کرنا چاہتی ہے جسے ہم نہیں چاہتے۔

مصر کی اپوزیشن کے بنیادی مطالبوں میں سے ایک یہ ہے کہ حسنی مبارک کے دور کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس