1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصراتہ پر نیا حملہ، سرکاری دستے پسپا

لیبیا میں باغیوں نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے معمر قذافی کے حامی دستوں کے بندرگاہی شہر مصراتہ کے مشرقی حصے پر ایک بڑے حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

default

باغیوں کے ایک ترجمان کے مطابق ساحلی شہر مصراتہ پر قذافی کی حامی فوجوں کے اس حملے اور اس کے خلاف باغیوں کی مزاحمت کے دوران کافی شدید لڑائی ہوئی۔ اس وجہ سے بہت سے مقامی باشندے یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور بھی ہو گئے۔

ادھر برسلز میں نیٹو ذرائع نے آج کہا کہ یہ ممکن ہے کہ جمعرات کے روز مغربی دفاعی اتحاد کے جنگی طیاروں سے بریقہ کے بندرگاہی شہر کے قریب جو فضائی حملے کیے گئے تھے، ان میں حادثاتی طور پر قذافی کے مخالف باغیوں کے چند ارکان بھی مارے گئے ہوں۔

نیٹو جنگی طیاروں کے حملے میں لیبیا میں حکومت مخالف باغیوں کے ایک ٹینک کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر نیٹو سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے بھی آج جمعہ کو افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے برسلز میں کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور نیٹو کو اس میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرا دکھ ہے۔

NO FLASH Krieg in Libyen

لیبیا ہی کے بارے میں جنیوا سے مو صولہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم ممکنہ طور پر اتوار کو چھان بین کے لیے لیبیا روانہ ہو جائے گی۔ انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے یہ ماہرین لیبیا میں تحقیقات کریں گے کہ وہاں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی رپورٹیں کس حد تک درست ہیں۔

عالمی ادارے کی اس ٹیم کے سربراہ شیرف بادسیونی نے جمعہ کو جینوا میں بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی پرسوں اتوار سے لیبیا میں اپنا فیلڈ مشن شروع کر دیں گےجہاں ان کی مصروفیات کے مرکز زیادہ تر لیبیا کے مشرقی اور مغربی حصے ہو ں گے۔ عالمی ادارے کے انسانی حقوق کے ماہرین کی اس ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ اپنے اس مشن کے دوران وہ مصر اور تیونس بھی جائیں گے۔

ماہرین کی اس ٹیم کی تشکیل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے متفقہ طور پر کیا تھا تاکہ ان الزامات کی چھان بین کی جا سکے کہ لیبیا میں قذافی کی فوجیں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس