1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصراتہ پر قذافی کی حامی فوج کے حملے تیز تر

لیبیا کے شہر مصراتہ کا محاصرہ کرنے والی قذافی کی حامی فوجوں نے اپنے حملے تیز تر کر دیے ہیں اور یہ رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ لیبیا کے مہاجرین کا ایک بحری جہاز گزشتہ جمعہ کو اپنے 600 تک مسافروں کے ساتھ سمندر میں ڈوب گیا۔

default

معمر قذافی کے خلاف بن غازی میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی تصویر

بندرگاہی شہر مصراتہ پر قذافی کی حامی فوجوں نے اپنی گولہ باری تیز تر کر دی ہے جبکہ ملکی دارالحکومت طرابلس سے 200 کلومیٹر مشرق کی طرف واقع اس شہر کے اب ایسے حصوں میں بھی لڑائی شروع ہو گئی ہے، جو اب تک باغیوں اور قذافی کی فورسز کے درمیان مسلح تصادم کی زد میں آنے سے بچے ہوئے تھے۔

Illegale Einwanderer Libyen Lampedusa Italien 08.05.2011

اطالوی جزیرے لامپے ڈوسا پہنچنے والے لیبیا کے مہاجرین میں سے ایک کی فوری مدد کی جا رہی ہے

مصراتہ کا شہر قذافی کے مخالف باغیوں کو بیرون ملک سے ملنے والی مدد کے تسلسل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور آج پیر کے روز شہر میں جگہ جگہ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ اس کے علاوہ مختلف خبر ایجنسیوں کے مطابق شہر میں کئی جگہوں پر ایندھن کے ڈپو آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہیں جبکہ باغیوں کی اعلیٰ قیادت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شہر میں عنقریب ہی اشیائے خوراک اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

باغیوں کے مطابق انہیں سرکاری دستوں کو شکست دینے کے لیے ایسے ہتھیار درکار ہیں، جو موجودہ صورت حال میں بڑی تبدیلی کو یقینی بنا سکیں۔ ان باغیوں کے مطابق اگر انہیں مغربی دنیا کی طرف سے بہت جلد مؤثر ہتھیار فراہم نہ کیے گئے تو ایک ماہ کے اندر اندر مصراتہ میں کھانے پینے کی اشیاء اور پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

مصراتہ کی عسکری اہمیت

مصراتہ کو لیبیا میں فروری کے وسط میں شروع ہونے والے قذافی مخالف عوامی مظاہروں اور ہنگاموں کے بعد سے مسلسل شدید تر ہو جانے والے تنازعے میں عسکری حوالے سے فیصلہ کن اہمیت حاصل ہے۔ قذافی کی حامی فوجوں کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے مصراتہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا تو پھر باغیوں کی تحریک کو کچلنا مقابلتاﹰ آسان ہو جائے گا۔ اس کے برعکس باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کی کامیابی کے لیے مصراتہ کے دفاع میں کامیابی ناگزیر ہے۔

کھلے سمندر میں سینکڑوں ہلاکتیں

اسی دوران اٹلی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور کئی عینی شاہدین کے حوالے سے یہ رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ گزشتہ جمعہ کے روز لیبیا کے مہاجرین کو لے کر آنے والا ایک بحری جہاز کھلے سمندر میں ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اس پر سوار مبینہ طور پر 600 تک مہاجرین کی اکثریت ڈوب کر ہلاک ہو گئی۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرین کی ایک ترجمان نے میلان میں بتایا کہ ان رپورٹوں کی تصدیق کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈوب جانے والے جہاز کی روانگی کے بعد لیبیا سے روانہ ہونے والی ایک دوسری بڑی کشتی میں سوار پناہ گزینوں نے بعد میں دیکھا کہ اس جہاز پر سوار مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کی لاشیں سمندر میں تیر رہی تھیں۔

Krieg in Libyen

لیبیا کے خلاف نیٹو فضائی مشن میں حصہ لینے والا برطانیہ کا ایک ٹورناڈو فائٹر طیارہ

نیٹو پر الزام

دریں اثناء مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ذرائع نے آج پیر کے روز ان الزامات کی تردید کی کہ نیٹو کے ایک جنگی بحری جہاز نے لیبیا کے مہاجرین کی ایک ایسی کشتی کو دیکھنے کے باوجود اس میں سوار خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زائد مہاجرین کی کوئی مدد نہیں کی تھی، جو پانی اور ایندھن ختم ہو جانے کے بعد دو ہفتے سے بھی زائد عرصے تک کھلے سمندر میں بھٹکتی رہی تھی۔ برطانوی اخبار گارڈیئن کے مطابق یہی کشتی بھٹکتی بھٹکتی کئی دن بعد دوبارہ مصراتہ کے قریب لیبیا کے ساحلوں تک پہنچ گئی تھی لیکن تب تک اس میں سوار گیارہ کے سوا باقی تمام مسافر بھوک اور پیاس کی شدت سے ہلاک ہو چکے تھے۔

لیبیا کے باغیوں کے بارے میں، جنہیں مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے، ابوظہبی سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ باغی قریب 100ملین ڈالر مالیت کا تیل فروخت کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کو اس تیل کے بدلے ادائیگی قطر کے ایک بینک کے ذریعے کی جائے گی۔

نیٹو مشن میں ناروے کا کردار

لیبیا کے بارے میں اوسلو سے ملنے والی رپورٹوں میں ناروے کی خاتون وزیر دفاع گریٹے فاریمو کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ناروے لیبیا کی فضائی حدود میں نیٹو کی طرف سے نو فلائی زون کے نفاذ کی کوششوں میں اپنی شمولیت آئندہ کم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوسلو کے چھ جنگی طیارے مارچ کے آخر سے اس مشن پر حصہ لے رہے ہیں، جس پر اب تک 47 ملین ڈالر لاگت آ چکی ہے، اور یہ اخراجات اس بارے میں ناروے کی فوج کے ابتدائی مالیاتی اندازوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM