1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مشہورحیاتیات دان چارلس ڈارون کی200ویں سالگرہ

بارہ فروری 1809 کو لندن میں پیدا ہونے والے حیاتیات دان نے 50 سال کی عمر میں اپنا نظریہ ارتقاء پیش کیا۔ اس سال ڈارون کے نظریہ ارتقا کی بھی ایک سو پچاسویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

default

مشہور حیاتیات دان چارلس رابرٹ ڈارون

چارلس ڈارون نے 1859ءمیں ”اوریجن آف سپیشیز“ کے نام سے کتاب لکھی تھی جس میں یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا کہ لاکھوں سال کے قدرتی عمل اور مستقل ارتقائی مرحلے سے جاندار موجودہ حالت کو پہنچے ہیں۔

Darwins Expedition mit der Beagle

ڈارون کا جہاز بیگل جس پر ڈارون نے دنیا کا سفر کیا

ڈارون 1831 میں 22 سال کی عمر میں بحری جہاز ’’بیگل‘‘ پر دنیا کے گرد سفر پر روانہ ہوئے۔ اس لمبے سفر کے دوران ڈارون بہت قدیم قبیلوں سے بھی ملے اور اس سفر میں انہوں نے بہت سے جانوروں کے فوسلز یا ڈھانچے بھی دریافت کئے۔ اس سفر میں ڈارون نےبہت بڑی تعداد میں پودوں اور جانوروں کا مشاہدہ کیا اوران مشاہدات کو بڑی تفصیل سے قلم بند کیا۔

ان مشاہدات کی بنیاد پر ڈارون کی لکھی ہوئی کتاب Origin Of Species یا حیاتی انواع کا ماخذ ہے۔

Downe House in England

ڈارون کا گھر جسے برطانوی حکومت نے عالمی ورثہ قرار دے دیا ہے

ڈارون کے نظرئیے کے مطابق ہر زندہ جسم میں ایک مستقل ارتقائی رجحان پایا جاتا ہے جو اسے نہ صرف ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں معاونت کرتا ہے بلکہ مسلسل ارتقاء کا یہ عمل اس میں بہت سی تبدیلیوں کا بھی باعث بنتا ہے مگران تبدیلیوں کے واضح ہونے میں لاکھوں برسوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ڈارون کا ماننا تھا کہ انسانی کی موجودہ شکل کے درپردہ لاکھوں برسوں کا ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے جو اسے اس شکل تک لے کر آیا۔

BdT Gedenkbriefmarken zum 200. Geburtstag von Charles Darwin der British Post

چارلس رابرٹ ڈارون کی 200 ویں سالگرہ کے موقع پر برطانیہ میں ڈاک ٹکٹ بھی جاری کئے گئے ہیں

ڈارون کے اس نظرئیے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان سے اختلاف بھی کیا۔ یہ ناقدین جن میں بڑی تعداد مختلف مذاہب سے متعلق رکھنے والے دانشوروں کی تھی ڈارون کے نظرئیے پر سب سے بڑا اختلافی نقطہ یہ اٹھاتے دکھائی دئیے کی ڈارون کے اس نظرئیے میں خدا کے وجود کی نفی کی گئی ہے حالانکہ ڈارون کی کتاب Origin Of Species کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے ’’تخلیق کار نے زندگی کو ایک یا زائد بنیادی انواع سے تخلیق کیا۔‘‘

برطانوی حکومت نے عالمی شہرت یافتہ سائنسدان چارلس رابرٹ ڈارون کے جائے پیدائش اور کام کرنے کی جگہ کو عالمی ورثہ قرار دیدیا ہے۔

چارلس ڈارون نے1882ءمیں وفات پائی۔ ڈارون کی لینڈ سکیپ لیبارٹری بروملے کے علاقے بروگ میں واقع ہے جو ڈارون کے مکان، تجرباتی باغ اور ایک طویل صحن پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اس لیبارٹری میں تقریباً 40 سال تک کام کیا۔