1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشکل وقت کے لیے تیار رہنا چاہیے، سارکوزی

یورپی یونین کو درپیش مالی بحران کا حل تلاش کرنے کے حوالے سے برسلز میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر سارکوزی نے کہا،’’ اخراجات بہت زیادہ ہیں اور اب کام بھی زیادہ کرنا ہو گا‘‘

default

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے انٹرویو میں اپنے عوام کو سب سے اہم پیغام یہ دیا کہ مستقبل میں مزید بچتی اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں اس مشکل وقت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اپنے اس مرکزی پیغام کو دینے میں سارکوزی نے تقرییاً 42 منٹ لگا دیے۔ انہوں نے کہا کہ سنجیدگی کے ساتھ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے جرمنوں کی طرح اقتصادی نموکی پیش گوئیاں کرنی چاہییں۔ فرانس بجٹ میں بھی خیال کرتے ہوئے چھ سے آٹھ ارب یورو بچانے ہیں۔

گزشتہ کئی دنوں سے فرانس میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ پیرس حکومت ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافہ کرنے والی ہے۔ اس تناظر میں سارکوزی نے کہا کہ سوفٹ ڈرنکس پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ ’’تمام اشیاء میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں کسی صورت بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ اس سے فرانسیسی عوام کی قوت خرید متاثر ہو گی۔ اس طرح کھپت میں کمی ہو گی اور یہ انصافی ہے‘‘۔

EU-Gipfel Angela Merkel Nicolas Sarkozy FLASH-GALERIE

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے انٹرویو میں جرمنی کی پالیسیوں کو سراہا

یورو کو درپیش بحران اور یورپی مالیاتی استحکامی فنڈ پر فرانسیسی صدر نے سب سے زیادہ بات کی۔ انہوں نے چین پر صنعتی انحصار کے موضوع کے علاوہ یونان اور یورپ کو بچانے کے سلسلے میں یورپی عوام کی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالی۔ بہت سے فرانسیسی حلقوں کے خیال میں یہ انٹرویو سارکوزی کی صدارتی انتخابات کی مہم کا آغاز تھا کیونکہ انہوں نے کئی مرتبہ اس طرح کے جملے ادا کیے۔ سارکوزی کے بقول کیا آپ کو علم ہے کہ جرمنی کیوں دو اعشاریہ تین فیصد اور فرانس تین فیصد سود ادا کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1983ء میں فرانس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو 65 سے کم کر کے 60 کر دیا گیا تھا جبکہ جرمنی نے اس کے برعکس کیا۔ ساتھ ہی فرانس میں ہفتے میں 35 گھنٹے کام کرنے کا قانون لاگو ہو گیا، جس کی وجہ سے یہ ملک مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ اور جرمنی میں سوشلسٹ چانسلر گیرہارڈ شروئڈر کے اقدامات اس سے بالکل مختلف تھے۔

سارکوزی پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ انٹرویو کے دوران سوال و جواب پہلے ہی سے طے تھے۔ اس موقع پر فرانسیسی صدر کے قریبی دوست صحافیوں اور دوستوں کی موجودگی نے اس تاثر کو مزید تقویت دی۔

رپورٹ:یوہانس ڈُوخرو

ترجمہ: عدنان اسحاق

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM