1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مشکل موضوعات، مگر طنزیہ انداز میں

پاکستان میں ملک کے سیاسی منظر نامے اور حالات حاضرہ سے متعلق خبروں کو طنزیہ انداز میں پیش کرنے والی ایک ویب سائٹ ان دنوں شہرت حاصل کر رہی ہے۔

خبرستان ٹائمز نامی یہ ویب سائٹ مشکل اور نازک معاملات کو بھی طنز و مزاح کے پیرائے میں اپنا موضوع بناتی ہے۔ تاہم بعض اوقات ان طنزیہ خبروں کو سنجیدہ بھی لے لیا جاتا ہے۔

اس ویب سائٹ کا آغاز آج سے قریب ایک برس قبل ہوا تھا اور یہ ایک طرح سے امریکی نیوز ویب سائٹ ’دی اَنیئن‘ The Onion کی طرز پر تیار کی گئی ہے۔ اس میں خبروں کو معروف امریکی کامیڈین جان اسٹورٹ کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جنہوں نے گزشتہ 15 برس تک ’ڈیلی شو‘ کی میزبانی کرنے کے بعد حال ہی میں ریٹائرمنٹ لے لی۔

اس ویب سائٹ کے ایک بانی کنور خلدون شاہد کہتے ہیں، ’’اگر آپ کسی چیز کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو خود پر تنقید کرنا ہو گی، اپنے ملک اور اپنے رہنماؤں پر تنقید کرنا ہوگی۔‘‘

خبرستان کا نام دراصل خبر اور پاکستان کا مجموعہ ہے۔ اس ویب سائٹ پر فرضی کہانیوں کے ذریعے پاکستان میں عام طور پر گردش کرنے والے سازشی نظریات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک ایسی ہی رپورٹ میں جس کا عنوان ہے’’پاکستان امریکا کے علاوہ کسی اور کا ڈرون برداشت نہیں کرے گا‘‘، اس نقطہ نظر کا مذاق ہے جو بہت سے لوگوں کے خیال میں حکومت امریکی ڈرون حملوں سے متعلق اختیار کرتی ہے۔ پاکستانی حکومت عوامی سطح پر تو امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کرتی ہے مگر اندرون خانہ اس کی حمایتی ہے۔

ایک ایسے ہی طنزیہ مضمون میں لکھا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کھوج لگایا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے زیادہ تر جنگجو ’غیر مختون‘ ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند گروپ مسلمانوں پر مبنی نہیں بلکہ اس کی پشت پناہی مغرب کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سازشی نظریہ ہے جس پر زیادہ تر پاکستانی یقین رکھتے ہیں۔

ایک طنزیہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے جینز پہننے والی خواتین کو ملک کی ’بدترین دشمن‘ قرار دیتے ہوئے ملکی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے

ایک طنزیہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے جینز پہننے والی خواتین کو ملک کی ’بدترین دشمن‘ قرار دیتے ہوئے ملکی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے

خبرستان ٹائمز کے مزاح کو بعض اوقات بھارتی اور برطانوی میڈیا غلط انداز میں بھی لے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر اس ویب سائٹ پر ایک طنزیہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ ملک میں مذہبی سیاسی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جینز پہننے والی خواتین کو ملک کی ’بدترین دشمن‘ قرار دیتے ہوئے ملکی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تاہم یہ خبر دنیا بھر میں ’وائرل‘ ہو گئی جس پر خبرستان ٹائمز کے اسٹاف کو بھی حیرت ہوئی۔

خبرستان ٹائمز کی شریک بانی لاوت زاہد Luavut Zahid کے مطابق مغرب میں بھی لوگوں نے یہی سمجھا کہ شاید یہ سب کچھ سچ ہے۔ کنور خلدون شاہد کہتے ہیں کہ جیسے جان اسٹورٹ کے مزاح کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی حالات حاضرہ پر نظر ہو، ویسے ہی ان کی ویب سائٹ پر چپھنے والے مواد کو سمجھنے کے لیے بھی آپ کو صورتحال سے باخبر ہونا چاہیے۔

لیکن کیا اس پر چھپنے والے طنزیہ مظامین پر، جن میں اکثر حساس موضوعات کو بھی چھیڑا جاتا ہے، کسی جانب سے کوئی دھمکی یا مخالفت بھی سامنے آئی ہے؟ اس کے جواب میں لاوت زاہد کہتی ہیں، ’’ایک مرتبہ ایک شخص نے لکھا کہ ان لوگوں کو لٹکا دینا چاہیے۔۔۔ مگر وہ ایسا اصل میں کرے گا نہیں۔‘‘

خبرستان ٹائمز ویب سائٹ بتدریج لوگوں میں مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ اس ویب سائٹ کا جب آغاز کیا گیا تھا تو اس پر کلکس کی تعداد محض 400 ماہانہ تھی جو اتنے کم عرصے میں بڑھ کر ایک لاکھ ماہانہ تک پہنچ گئی ہے۔