1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مشکل حالات میں امدادی کارکن کو کیا کرنا چاہیے؟

تنازعات میں گھرے علاقوں میں امدادای سرگرمیاں جاری رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اکثر امدادی کارکنوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، جن کی پرچھائیوں سے جان چھڑانا آسانی سے ممکن نہیں ہوتا۔

فرض کیجئے کہ آپ ایک امدادی کارکن ہیں اور آپ جنگ سے متاثرہ کسی علاقے میں سرگرم ہیں۔ اس علاقے میں دور سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ اپنا کام مکمل کر کے آپ اپنے مرکز کی جانب رواں دواں ہیں اور آپ کا ڈرائیور گاڑی چلا رہا ہے۔ ایسے میں ایک بچی اچانک سڑک پر آ جاتی ہے اور گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے۔ اچانک بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی گاڑی پر لاتیں مارتا ہے تو کوئی شیشوں پر مکے۔ یہ لوگ گاڑی کھلوا کر ڈرائیور اور آپ کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ مسلح بھی ہیں۔ ایسے میں دروازہ کھول کر ڈرائیور کو باہر نکال لیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے؟

یہ شاید مشکل ترین صورتحال ہوتی ہے، جس کا سامنا کسی امدادی کارکن کو کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ایسی صورتحال میں حالات کو کیسے قابو کیا جا سکتا ہے؟ یہ سکھانے کے لیے انٹرنیشنل لوکیشن سیفٹی ’آئی ایل ایس‘ نامی ادارہ تربیت مہیا کر رہا۔ یہ تین روزہ کورس لندن کے گیٹوک ہوائی اڈے کے قریب ’’بدستان‘‘ نامی تربیت گاہ میں کرایا جا رہا ہے۔ اس دوران کوشش کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا ویسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑے، جیسا کسی جنگی علاقے میں ہوتے ہیں۔ اس تربیت کا ایک مقصد امدادی کارکنوں کو کسی مشکل صورت حال کے لیے تیار کرنا ہے۔

آئی ایل ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر جورج شو کے مطابق، ’’ افسوس اس امر کا ہے کہ اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گےان پر قابو نہیں پا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں ایسے کام نہیں کرنے چاہییں، جن میں خطرات ہوں۔ بلکہ ہیمں خطرات میں گھرے کام محفوظ طریقے سے کرنے چاہییں۔‘‘

2013ء امدادی کارکنوں کے لیے خونریز ترین ثابت ہوا تھا۔ اس سال ایسے کارکنوں کے قتل، اغوا اور شدید زخمی کرنے کے 460 واقعات رونما ہوئے تھے۔ امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے افغانستان، سوڈان، پاکستان، صومالیہ اور شام کو خطرناک ترین ممالک قرار دیا جاتا ہے۔ انہی ممالک میں گزشتہ برسوں کے دوران اس طرح کے سب سے زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔