1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

مشکلات ضرور ہیں، بحران نہیں، سیپ بلاٹر

بدعنوانی کے الزامات کے تحت فیفا کا بحران سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے ۔ اس سے قبل بھی فیفا کے حوالے سے بدعنوانی اور رشوت کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ صورتحال کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔

default

رواں ہفتے فیفا کے آئندہ سربراہ کا انتخاب ہو گا، جس کے لیے بلاٹر کا منتخب ہونا متوقع ہے

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کا سلوگن ہے،’ کھیل کے لیے اور دنیا کے لیے‘۔ یہ ایک ایسا موٹو ہے، جس پر عوام بھروسہ کرتے ہیں تاکہ وہ اس کھیل سے ہمیشہ لطف اندوز ہوتے رہیں۔ ماہرین فٹ بال کہتے ہیں کہ اصل میں فیفا میں انفرادی دلچسپی اور فوائد کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقم بٹورنے کے علاوہ کس طرح اپنے اختیارات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

FIFA-Logo

اس صورتحال میں بھی کسی کی ہمت نہیں ہے کہ فیفا کے صدر سیپ بلاٹر اور خصوصی ارکان کو ریڈ کارڈ دکھا سکے۔ تاہم بلاٹر فیفا کے اس بحران کو معمولی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فیفا کو کسی بحران کا سامنا نہیں ہے۔ ہاں کچھ مشکلات ضرور ہیں۔ اور تمام مشکلات اندرونی سطح پر حل کر لی جائیں گی۔

فیفا میں ہر جانب خاموشی چھائی ہوئی ہے، جس سے لگتا ہے کہ اس تنظیم کے تمام خصوصی ارکان ہی کسی نہ کسی اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ ابھی تک سب اپنے اپنے اسکینڈلز کو چھپانے میں کامیاب رہے ہیں۔ رواں ہفتے فیفا کے آئندہ سربراہ کا انتخاب ہو گا، جس کے لیے بلاٹر کا منتخب ہونا متوقع ہے۔ یورپین فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر مشائیل پلاٹینی نے فیفا کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پلاٹینی فیفا کے نائب صدر اور ایکزیکٹو ممبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیفا کا انتظام فٹ بال کے ماہرین کے ہاتھ میں ہی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول فیفا جیسے بڑے ادارے کا مستقبل فٹ بال کے ماہرین ہی سنوار سکتے ہیں نہ کہ سیاستدان۔ ’’ میرے خیال میں فیفا کو اب فٹ بال کی جانب واپس آ جانا چاہیے‘‘۔

Die FIFA-Zentrale in Zürich Schweiz

فیفا میں انفرادی دلچسپی اور فوائد کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے، ماہرین

گزشتہ دنوں کے دوران فیفا کے حوالے سے جتنی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو اس کے عہدیداروں کو فٹ بال کے کھیل میں دلچسپی ہے اور نہ ہی دنیا کو بہتر بنانے میں۔ امید صرف ایک ہی ہے کہ شایدکوئی فیفا کی107سالہ تاریخ کے اس سب سے بڑے اسکینڈل کے اصل حقائق سامنے لائے۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنے کیے پر اتنا شرمندہ ہوکہ وہی اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لے تا کہ دوسروں پرایسا ہی کرنے کے لیے دباؤ اور بڑھ جائے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM