1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشروط رہائی قبول نہیں کروں گی : سُوچی

میانمار کی نظربند رہنما آنگ سان سوچی کا کہنا ہے کہ ہفتہ 13 نومبر کو ان کی ممکنہ رہائی کے بدلے اگر فوجی حکومت نے شرائط عائدکیں تو وہ انہیں قبول نہیں کریں گی۔ سوچی کی موجودہ نظربندی 13 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔

default

میانمار کی نظربند رہنما آنگ سان سوچی کا کہنا ہے کہ ہفتہ 13 نومبر کو ان کی ممکنہ رہائی کے بدلے اگر فوجی حکومت نے شرائط عائدکیں تو وہ انہیں قبول نہیں کریں گی۔ سوچی کی موجودہ نظربندی 13 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔

اتوار سات نومبرکو میانمار میں گزشتہ 20 سالوں کے دوران پہلی بار انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔ ان انتخابات میں فوجی حکومت کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈویلیپمنٹ پارٹی (USDP) نے باآسانی کامیابی حاصل کی تھی۔ سوچی کے وکیل کے مطابق نظربند اپوزیشن رہنما نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان انتخابات کے نام پر ہونے والے فراڈ کو بے نقاب کریں۔

امید کی جارہی ہےکہ نوبل انعام یافتہ سوچی کو ہفتے کے روز نظربندی کی مدت مکمل ہونے پر رہا کردیا جائے گا۔ نظر بندی کی یہ سزا انہیں گزشتہ برس سکیورٹی کے حوالے سے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر دی گئی تھی۔ سوچی کے وکیل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ رہائی قطعی غیر مشروط ہونی چاہیے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جمہوریت پسند سوچی نے نہ تو ماضی میں مشروط آزادی کو قبول کیا ہے اور نہ وہ اب کریں گی۔ دوسری جانب حکام کی طرف سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کہ آیا سوچی کی نظر بندی ختم ہونے پر انہیں آزاد بھی کیا جائے گا یا نہیں۔

اس سے پہلے بھی1995ء میں جب اپوزیشن جماعت نیشنل لیگ فارڈیموکریسی کی رہنما کی چھ سالہ نظر بندی ختم ہوئی تھی توانہیں ینگون شہر چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس فیصلے کا نتیجہ اس وقت تصادم کی صورت میں نکلا جب وہ اپنے حامیوں سے ملنے کے لئے شہر سے باہر جانے کوشش کر رہی تھیں۔

میانمار میں آنگ سان سوچی کو ایک با اثر شخصیت سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میانمار میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والی اس خاتون رہنما کو حکومت اپنے لیئے ایک زبردست خطرہ تصور کرتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر سوچی کو رہا کردیا گیا تو حالیہ انتخابات اور اس کے نتیجے میں منتخب ہونے والی حکومت کے خلاف ان کے اقدامات حکومت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ : عنبرین فاطمہ

ادارت : افسراعوان

DW.COM