1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مشرق کی طرف شراکت داری

جمعرات کے روز يورپی يونين کے رکن 27 ملکوں اور مشرقی يورپ میں سابق سوویت یونین کی چھ جمہوریاؤں کا ایک ایسا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں یورپی یونین کے "مشرق کی طرف شراکت داری" نامی پروگرام کی باقاعدہ بنياد رکھ دی گئی

default

يورپی يونين نے آرمینيا، آذربائیجان، جارجيا، مالدووا اور یوکرائن کے ساتھ ساتھ سفيد روس کو بھی اس اجلاس کے لئے مدعو کیا تھا

یونین کی اس شراکت داری کا مقصد کیا ہے اور اس پروگرام سے کن ملکوں کو فائدہ پہنچے گا؟

یہ سربراہی اجلاس چيک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ ميں ہوا۔ يورپی يونين نے آرمینيا، آذربائیجان، جارجيا، مالدووا اور یوکرائن کے ساتھ ساتھ سفيد روس کو بھی اس اجلاس کے لئے مدعو کیا تھا۔ اس اجلاس میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد يہ تھا کہ يورپی يونين سابق سوویت یونین کی ان چھ ریاستوں کی مدد کرسکے اور یوں یہ سبھی ملک جمہوری اصلاحات کے ذريعے استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوسکیں۔

Vladimir Putin und Jose-Manuel Barroso

روسی صدر پوٹن اور یورپی کمیشن کے سربراہ غوزے مانوئل باروسو

يورپی يونين کا يہ فیصلہ کہ سفيد روس کو بھی مشرق کی طرف پارٹنر شپ کا حصہ بنايا جائے شروع سے ہی ایک متنازعہ موضوع رہاہے۔ سفيد روس میں صدر آلیکساندر لوکاشینکو گذشتہ 15 برسوں سے تقریباﹰ ایک آمرانہ نظام حکومت کی سربراہی کررہے ہیں۔ سن 2006 ميں جب سفيد روس ميں انتخابات کے دوران بڑی دھاندليوں کے الزامات سامنے آئے تو يورپی يونين نے صدر لوکاشینکو اور ان کے ساتھيوں کے يورپ ميں داخلے پرپابندی لگانے کے ساتھ ساتھ يورپی ملکوں ميں ان کے تمام بينک اکاؤنٹ بھی منجمد کردئے تھے۔ ليکن اسی سال مارچ ميں يورپی وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں سفيد روس کی انہی اعلیٰ شخصیات کے خلاف عائد سفارتی پابندياں اُٹھالی گئی تھيں۔

اگر ايک طرف چند يورپی سياستدان سفيد روس کے ساتھ سفارتی تعلقات کی اس بحالی کو خوش آئند قرار دے رہے ہيں، کيونکہ ان کے خيال ميں ماضی میں پابنديوں کی سياست ناکام رہی ہے، تو دوسری طرف کئی دیگر يورپی سياستدانوں اور خود سفيد روس میں اپوزیشن رہنماؤں نے بھی منسک حکومت کے ساتھ يورپی يونين کے تعلقات کی بحالی اور "مشرق کی طرف شراکت داری" کے پروگرام پر اس لئے تنقید کی ہے کہ ان فیصلوں میں بظاہر وہاں کی اپوزیشن کو شامل نہیں کیا گیا۔

سفيد روس کے ایک سابق نائب وزیر خارجہ Andrej Sannikov کہتے ہيں کہ اُن کے ملک ميں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزياں آج بھی جاری ہيں۔

اس بات کا انحصار ہمارے ہاں آمروں کے مزاج پر ہوتا ہے کہ کسی احتجاجی مظاہرے کی اجازت دی جائے يا اسے زبردستی ناکام بنا دیا جائے۔ سفيد روس ميں ابھی تک بہت سے سياسی قيدی موجود ہيں۔ ان سياسی قيديوں ميں سے ايک گذشتہ تين ہفتوں سے محض اس لئے ہڑتال پر ہے کہ اس کے خلاف مقدمے کی سماعت کھلی عدالت ميں ہونی چاہئے۔

سفيد روس کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل حکومت کو مجبور کر رہے ہيں کہ وہ يورپ کے ساتھ اچھے تعلقات کی بحالی کے لئے اپنی طرف سے بھرپور کوششیں کرے۔ دوسری طرف يورپی يونين کی کوشش ہے کہ روس کے زيراثر اس ملک کو يورپی يونين کے قريب تر لایا جائے۔