1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرق وسطی امن کانفرنس

امریکہ نے مشرق وسطی امن کانفرنس کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس کانفرنس کا مقصد فلسطین میں الگ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا بتایا گیا ہے۔اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اسرائیلی حکام، فلسطینیوں اور سعودی عرب اور شام جیسے اہم عرب ممالک کے لئے دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔پروگرام کے مطابق مشرق وسطی امن کانفرنس 27نومبر کو ریاست میری لینڈ کے شہر Annapolis کی نیول اکیڈمی میں منعقد ہو رہی ہے۔

default

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش امن کانفرنس سے ایک روز قبل فلسطین انتظامیہ کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ سے دوطرفہ ملاقات بھی کریں گے۔ مصر نے بھی امریکہ میں ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کے لئے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔جبکہ مصر کے اپوزیشن رہنماؤں نے اس کانفرنس میں مصر کی ممکنہ شرکت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اگرچہ اس بات پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ یہ کانفرنس مشرق وسطی کے تنازعہ کے حل کے سلسلے میںآخری کانفرنس ثابت ہو گی اور امریکہ کے مشرق وسطی کے خصوصی نمائندے David Welchکا کہنا ہے کہ یہ تصویر کو تبدیل کرنے اور سنجیدہ گفتگو شروع کرنے کا عمدہ موقع ہے لیکن خود مصر کے بہت سے تجزیہ نگاروں نے ابھی سے ہی اس کانفرنس کی ناکامی کی پیش گوئی کر دی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسرائیل اور امریکہ اس کانفرنس میں پورے خلوص کے ساتھ شرکت کر رہے ہیں؟

مصر کے صدر حسنی مبارک نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس کانفرنس کے سلسلے میں ناکامی کے لفظ کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں اس طرح کہنا چاہیے کہ اگر یہ کانفرنس اپنے اہداف کو حاصل نہیں کرتی تو پھر کیا نتائج برآمد ہوں گے۔

بظاہر انہی خدشات کے پیش نظرامریکی صدر نے اس کانفرنس کے اہداف بیان کرتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ ہماری کوشش یہ ہو گی کہ الگ فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے سنجیدہ گفتگو کے آغاز کی راہ ہموار کریں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ صدر بش اس کانفرنس میںہر شرط پورا کرنے کا وعدہ نہیں کر رہے ہیں۔ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ مشرق وسطی امن کانفرنس میں دوسرے عرب ممالک شرکت کر رہے ہیں یا نہیں۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ابھی تک اسرائیل نے مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے نہ تو سنجیدگی کاثبوت دیا ہے اورنہ ہی اس سلسلے میں خاطر خواہ قربانی دینے کی ضمانت فراہم کی ہے۔ اس کانفرنس میں سعودی عرب کی شرکت خاص طور پر اس لئے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب نے سن 2002میں خود بھی ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا۔

شام کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں اس کانفرنس میں شرکت کرے گا جب جولان کی پہاڑیوںکے مسئلے پر کہ جس پر اسرائیل نے 1967میں قبضہ کر لیا تھا ، گفتگو کی جائے گی ۔ تاہم آج قاہرہ میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے سلسلے میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس بھی ہو رہا ہے۔

ادھر پاکستان نے بھی Annapolis Conferenceمیں شرکت کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق کا کہنا ہے کہ پاکستان اس کانفرنس کی کسی بھی ایسی تجویز کا خیر مقدم کرے گا جو مشرق وسطی میں امن و استحکام لانے میں معاون ثابت ہو گی۔

بہرحال اگرچہ اسرائیل نے نیک نیتی کا ثبوت دینے کے لئے کانفرنس سے پہلے کئی سو فلسیطنی قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن کیا اسرائیل کی طرف سے اس قسم کا مثبت اقدام، فلسطینیوں اور فلسطین کی حمایت کرنے والے ممالک کے لئے قابل قبول ہو گا۔ بظاہر اس کا فیصلہ آئندہ ہفتے کی کانفرنس میں ہو سکے گا۔