1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرق وسطیٰ کے لئے قائم چہار فریقی گروپ کی میٹنگ

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش اسرائیل فلسطین تنازعے کا حل دو ریاستوں کے قیام میں دیکھتے ہیں۔ اِس حوالے سے امریکی میزبانی میں ہونے والی اناپولس کانفرنس کے بعد سے جامع مذاکراتی عمل جاری ہے۔

default

امریکی صدر جورج ڈبلیُو بُش کی خواہش ہے کہ وہ اپنے صدارتی منصب سے فارغ ہونے سے قبل مشرق وسطی تنازعے کے لیے ایک جامع امن فریم ورک اپنے جانشین کو دے کر جائیں۔

امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر اناپولس میں ہونے والی مشرق وسطیٰ کانفرنس کے تسلسل میں مشرق وسطیٰ میں تمام تر رکاوٹوں اور پیچیدگیوں کے باوجود امن بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اِن بات چیت کے تناظر میں محمود عباس اور ایہود اولمیرٹ گاہے گاہے ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر جورج ڈبلیُو بُش کی خواہش ہے کہ وہ اپنے صدارتی منصب سے فارغ ہونے سے قبل ایک جامع امن کا فریم ورک اپنے جانشین نو منتخب امریکی صدر باراک اوباما کے حوالے کرجائیں۔ تاہم اُن کے اس خواب کو بیس جنوری سن دو ہزار نو تک تعبیر ملنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ ایسا ہی اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمیرٹ چاہتے ہیں جو اب آئندہ الیکشن تک قاتم مقام حیثیت میں فرائض منصبی سنبھالے ہوئے ہیں۔

BG60JahreIsrael Mauer in der Westbank

ایسی پیش بندیاں کی جا رہی تھیں کہ اِس سال کے اندر کم از کم ایک فلسطینی ریاست کے خد و خال سامنے آ جائیں۔ مگر مذاکراتی عمل میں حائل روکاوٹوں کی وجہ سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب کچھ ابھی ممکن نہیں اور اِس مناسبت سے خطے کے دورے پر گئی امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزارائیس نے اپنے تازہ دورہٴ مشرق وسطیٰ کے دوران کہہ دیا ہے کہ اِس سال کے دوران کسی سمجھوتے کا امکان ممکن نہیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینی علاقے جنین کا دورہ بھی کیا۔ گزشتہ دوسالوں کے درمیان امریکی وزیر خارجہ امن مذاکرات کے سلسلے میں اُنیس مرتبہ خطے کا دورہ کر چکی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ جنین کے دوران ایک ہسپتال کے خصوصی شعبے کا افتتاح کیا جو امریکی امداد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ فلسطینی علاقہ جنین اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا بار ہا نشانہ بن چکا ہے۔ اِس مناسبت سے امریکہ کے فلسطین اسرائیل کے لئے مقرر سکیورٹی کوارڈی نیٹر جنرل کیتھ Dayton کے مطابق جنین میں اسرائیلی حملوں میں چالیس فی صد کمی واقع ہو چکی ہے۔

اتوارکو شروع ہونے والی چہار فریقی میٹنگ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے علاوہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاف روف، اسرائیل کی وزیر خارجہ سپی لیونی، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس، یورپی یونین کے صدر ملک فرانس کے وزیر خارجہ Bernard Kouchner کے ہمراہ یورپی یونین کے خارجہ امور کے چیف خاوئرو سولانہ شریک ہیں۔