1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی کا خاتمہ اقتصادی ترقی سے، روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی آج کل اپنے پہلے یورپی دورے کی پہلی منزل اٹلی میں ہیں۔ جوہری ڈیل کے مؤثر ہونے پر مغربی ملکوں کی اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران اپنی اقتصادی بحالی کے عمل کو بھرپور اندار جاری رکھے ہوئے ہے۔

default

ایرانی صدر روحانی اطالوی وزیراعظم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے

اٹلی کے دورے کے دوسرے دن اطالوی دارالحکومت روم میں بزنس فورم کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اِس خطے میں اقتصادی بحالی وقت کی ضرورت ہے۔ اِس تقریر میں ایرانی صدر نے اپنے ملک کو خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور استحکام کا مرکز قرار دیا۔ روحانی نے اپنے تقریر میں سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی کو ایران میں متعارف کروانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اِس سے ایک نئی آزاد مارکیٹ جنم لے گی۔

حسن روحانی کے اٹلی کے دورے کے دوران اطالوی حکومت نے سترہ بلین یورو یا تقریباً ساڑھے اٹھارہ بلین ڈالر کی بزنس ڈیل کے طے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اٹلی کے بعد فرانس میں بھی کئی کاروباری سودوں کی ڈیل طے ہونا باقی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کو جو گرم جوشی اطالوی دورے پر میسر آئی ہے، ویسی ہی فرانس میں توقع کی جا رہی ہے اور یہ اِس کی عکاس ہے کہ یورپی اقوام ایران کے ساتھ عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کےبعد ماضی کی طرح اپنی اقتصادی تعلقات کی بحالی کے متمنی ہیں۔

Hassan Rouhani in Rom

حسن روحانی کا استقبال اٹلی کے صدر ماٹاریلا نے کیا تھا

ایرانی صدر نے روم میں اِس توقع کا اظہار کیا کہ وزیراعظم ماتیو رینزی اگلے مہینوں میں ایران کا دورہ کریں گے اور باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید استحکام دیں گے۔ روحانی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے ملک میں تیار یا دستیاب ہونے والی اشیاء کا تیس فیصد ایکسپورٹ کر سکیں گے۔ اٹلی اور فرانس کے دورے پر حسن روحانی کے ہمراہ ایک سو بیس اراکین پر مشتمل ایک وفد بھی گیا ہوا ہے۔ یورپی مبصرین کا خیال ہے کہ جو اندازِ کلام ایرانی صدر نے اپنایا ہے، وہ اُس سے یورپ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انتہا پسند سنی عسکری تنظیم ’اسلامک اسیٹ‘ کے خلاف مغربی اقوام کے ساتھ شیعہ ایران ایک مضبوط پارٹنر بن سکتا ہے۔

روحانی نے بزنس فورم میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر دنیا انتہا پسندی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جیتنا چاہتی ہے تو کامیابی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ متاثرہ اقوام میں شرحِ پیداوار کو بڑھانا ہے۔ روحانی کے مطابق شرح پیداوار میں اضافے سے روزگار کے مواقع جنم لیں گے اور دوسری جانب ایسا نہ ہونے کی صورت بھوک اور بیروزگاری سے دہشت گردانہ قوتیں افزائش پائیں گی کیونکہ بیروزگاری سے نجات کا آسان راستے پر چلنے سے دہشت گردی پروان چڑھتی ہے۔ دوسری جانب اطالوی وزیر خارجہ پاؤلو جینٹیلونی نے روحانی کے دورے کے حوالے سے کہا ہے کہ روم ایران کے ساتھ صرف تعاون کو بحال نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایک جامع اسٹریٹیجک اتحاد کو قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔