1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مشرق وسطیٰ میں امن کے لئے یورپی یونین کا کردار

غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے میں اب تک سینکڑوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین خطے میں فوری جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس حوالے سے کرسٹوف ہاسل باخ کا تبصرہ:

default

یورپی یونین کا امن وفد یوروشلم میں اسرائیلی صدر شمعون پیریز سے ملاقات کے دوران

سرکاری لحاظ سے دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کی جنگ روکنے کے لئے کی جانے والی مصالحتی کوششوں میں یورپی یونین کا کردار فیصلہ کن ہے۔ برسلزکےسرکاری مؤقف کے مطابق شوارزن برگ وفد یا سارکوزی کی کوششیں اس کام میں ہاتھ بٹانے کے مترادف ہیں۔ یورپی کمیشن کے ترجمان Amadeu Altafaj نے کہا کہ ہر وہ کوشش قابل تحسین ہے جس کے ذریعے یورپی یونین کا مشترکہ پیغام جنگی فریقین تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہو۔

Livni bei Sarkozy

فرانسیسی صدر سارکوزی اور اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی

سرکاری بیان کی حد تک تو سب ٹھیک نظر آتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یورپی یونین اندرون خانہ کھینچا تانی کی ایک افسوس ناک تصویر پیش کر رہی ہے۔ یونین کے صدر کےطور پر چیک ریپبلک کا کردار پہلے ہی کمزور ہے۔ اوپر سے اندرونی جھگڑے نے اسے بے بس کر رکھا ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر سارکوزی کا طرز عمل یوں ہے جیسے وہ ابھی تک یورپی یونین کی صدارت کا فریضہ انجام دے رہے ہوں۔ حالانکہ فرانس اپنی چھ ماہ کی صدارتی مدت پوری کر چکا ہے۔ سارکوزی قیادتی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور وہ کر بھی سکتے ہیں لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں ہے۔

Bernard Kouchner beim EU-Treffen in Paris

فرانسیسی وزیر خارجہ بیرنارد کوشنیر نے زور دے کا کہا کہ ہمیں ہرصورت میں جنگ بندی کا راستہ نکالنا ہو گا

سب سے مضحکہ خیز صورت حال کا سامنا فرانسیسی وزیر خارجہ Bernard Kouchner کو ہے۔ وہ اس وفد میں شامل ہیں جن کی قیادت چیک ریپبلک کے وزیر خارجہ Schwarzenberg کر رہے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ مشرق وسطیٰ جنگ کے بارے میں دونوں وزرائے خارجہ مختلف بیانات دے رہے ہیں۔ Schwarzenberg کہتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے جب کہ Kouchnerکے نزدیک یہ جنگ دفاع کے زمرے میں نہیں آتی۔

Israel greift Hamas an Freies Format

غزہ پر اسرائیلی کارروائی میں اب تک سینکڑوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں

ادھر جرمنی نے بھی اپنا ایک خصوصی ایلچی مشرق وسطیٰ روانہ کر رکھا ہے۔ جب تک یورپی یونین یکساں مؤقف پر مبنی ہم آہنگی ظاہر نہیں کرتی، سفارتی محاذ پر اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کا ثبوت اسرائیل کا طرز عمل ہے جو یورپ کی مصالحتی کوششوں کو کوئی وقعت نہیں دیتا۔

یورپی یونین کے لئے اس وقت کچھ کر دکھانے کا سنہری موقع ہے کیونکہ امریکہ جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں ناکام ہو چکا ہے۔