1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرق وسطیٰ سے متعلق سہ فریقی مذاکرات کا اعلان

مشرق وسطیٰ میں مصالحی عمل کے لئے امریکی مندوب کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب اس سے متعلق سہ فریقی مذاکرات امریکہ میں ہو رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حکام نے منگل کو ہونے والی بات چیت کی تصدیق کر دی ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما، اسرائیلی وزیر نیتن یاہو کے ساتھ

امریکی صدر کے خصوصی مندوب برائے مشرقِ وسطیٰ جارج میچل کی حالیہ مصالحتی کوششوں میں ناکامی کے بعد امریکہ کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں کے درمیان تعطل شدہ امن بات چیت کے دوبارہ آغاز کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آ ئی ہے۔

George Mitchell und Mahmoud Abbas

امریکی مندوب جارج میچل اور فلسطینی رہنما محمود عباس

اِس مرتبہ بات چیت کے معاملات میں صدر اوباما خود شامل ہو رہے ہیں۔ سفارتکاروں کا خیال ہے کہ اِس کوشش سے بریک تھرو کا امکان پیدا ہو سکتا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کو اندرون ملک اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ فلسطینی لیڈرشپ کو ریلیف دینے پر یا سخت مؤقف میں نرمی پیدا کرنے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ سفارت کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مغربی کنارے پر نئی یہودی بستیوں کی تعمیر پر امریکہ اور اسرائیل کے خوشگوارتعلقات پر برف جمنا شروع ہو چکی ہے۔

اِس سہ فریقی بات چیت کا اعلان جہاں وائٹ ہاؤس سے سامنے آ یا ہے وہیں اسرائیلی وزیر اعظم کے ایک سینئر مشیر نے بھی اِس کی تصدیق کی ہے۔ مشیر کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر کی پیشکش کو قبول کرنا بینجمن نیتن یاہو کی مثبت سوچ کا عکاس ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ملاقات بغیر کسی پیشگی شرائط کے ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم اِس میٹنگ کے لئے پیر کو امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔ پہلے وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے بدھ کو امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

امریکی صدر کا ارادہ ہے کہ وہ فریقین کے درمیان بات چیت کے عمل کی دوبارہ شروعات کے حوالے سے چند ٹھوس تجاویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس بات چیت کے عمل سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جمود کے شکار مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تینوں رہنما مل کر اختلافی معاملات پر پائی جانے والی خلیج کو دُور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اِس کے امکانات کم ہیں کیونکہ اسرائیل نئی یہودی بستیوں کی تعمیر سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں اور فلسطینی اِن کی تعمیر کو پوری طرح رکوانا چاہتے ہیں۔ یہی نئی یہودی بستیوں کی تعمیر اصل وجہ نزاع اور امن بات چیت کو شروع کرنے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے یہ رہنما آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لئے امریکہ پہنچیں گے۔ گزشتہ دنوں خطے کے لئے امریکی مندوب جارج میچل کی جانب سے فریقین کے درمیان مصالحتی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں، جس کے باعث منگل کے سہ فریقی مذاکرات کی کامیابی پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے۔

Blick auf die Siedlung Maaleh Adumim im Westjordanland

مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا منظر

دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان Yossi Levi نے جارج میچل کے تازہ دورے کی ناکامی کی ذمہ دار فلسطینی اتھارٹی کو قرار دیا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ فلسطینی لیڈر محمود عباس نے مصر کے صدر حسنی مبارک اور اردن کے شاہ عبداُللہ سے ملاقات کے دوران واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ میچل کے دورے کی ناکامی کا باعث اسرائیل کا سخت رویہ ہے۔ قاہرہ میں محمود عباس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لئے امن کا روڈ اِس وقت بلاک ہو چکا ہے۔

منگل کو ہونے والی اِس میٹنگ کے حوالے سے ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ میٹنگ کے حوالے سے کسی خصوصی اعلان کے سامنے آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ امریکی اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ یہ میٹنگ اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا حل امریکی صدر کے لئے کس قدر اہم ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM