1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرق وسطٰی تنازعات: بات کہاں تک پہنچیِ؟

مشرق وسطٰی میں ایک طرف فلسطینی انتظامیہ اور امریکی صدر باراک اوباما یہودی بستیوں میں تعمیر و توسیع روک دئے جانے کے موقف پر یکجا ہیں، تو دوسری طرف اسرائیلی حکومت ان منصوبوں کو جاری رکھنے پر بضد۔

default

مشرق وسطٰی کا تنازعہ عشروں پرانا ہے۔ یہ تنازعہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں ایک نئے نقطہء عروج کو پہنچا، جب عرب ممالک کو اسرائیلی افواج نے چھ دن کے اندر اندر بری طرح سے شکست سے دوچار کیا۔ اسرائیل نے اس فتح کے نتیجے میں مغربی اردن کے کنارے کے کچھ علاقے، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا، جو آج تک جوں کا توں قائم ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ سالوں میں ان مقبوضہ علاقوں میں، خاص طور سے مغربی اردن کے کنارے، کچھ یہودیوں بستیوں کی تعمیر اور توسیع شروع کر رکھی ہے، جسے اسرائیلی انتظامیہ اپنے شہریوں کی ’’قدرتی نشوونما‘‘ سے تعبیر کرتی ہے۔ یہی وہ وجہ ہے، جس نے فلسطینی صدر محمود عباس کی انتظامیہ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین نیتن یاہو کی اسرائیلی حکومت کے درمیان خطے میں امن کی تمام کوششوں کو ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے۔

Barack Obama trifft auf Benjamin Netanyahu und Mahmoud Abbas Flash-Galerie

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس، امریکی صدر باراک اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو

اسرائیل کے مطابق یروشلم میں بسنے والے یہودیوں کو حق ہے کہ وہ کسی بھی جگہ رہ سکتے ہیں، رہنے کے لئے مکان خرید سکتے ہیں کیوں کہ متحدہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ فلسطینیوں کو اس اسرائیلی دعوے سے اختلاف ہے کیونکہ وہ مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا بنیادی جزو سمجھتے ہیں۔ اسرائیل نے سن اُنیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کرنے کے بعد اِس کو اسرائیلی ریاست میں ضم کردیا تھا۔

اس سال کے آغاز میں امریکہ میں باراک اوباما کے بطور صدر منتخب ہونے اور اسرائیل میں نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کے قیام کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کئی معاملات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان اختلافات کا تعلق دو ریاستی نظریے کے طور پر مشرق وسطٰی تنازعے کے حل اور نئی یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے سےہے۔ صدر اوباما تمام تر تعمیری اور توسیعی منصوبوں کو مکمل طور پر منجمد دیکھنے کے خواہش مند ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے مزید آبادکاری کے منصوبے کو فی الوقت تو روکا جاسکتا ہے مگر یہ منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی انتظامیہ کا موقف ہے کہ امن مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں کئے جاسکتے، جب تک یہودی آباد کاری کا منصوبے ترک نہیں کیا جاتا۔

امریکی صدر باراک اوباما، مشرق وسطٰی تنازعے کے حل کے لئے امن مذاکرت کی بحالی چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے جارج مچل کو مشرق وسطٰی کے لئے اپنا خصوصی مندوب بھی مقرر کر رکھا ہے۔ مچل اس سال کئی دفعہ مشرق وسطٰی کے دورے پر گئے اور وہاں انہوں نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے مختلف مواقع پر ملاقاتیں کیں، مگر وہ سب بے نتیجہ رہیں۔

Benjamin Netanyahu George Mitchell

نیتن یاہو اور مشرق وسطٰی کے لئے خصوصی امریکی مندوب جارج مچل

اسی دوران جارج مچل کی یہ بھی کوشش رہی کہ کسی طرح صدر اوباما کی موجودگی میں عباس اور نیتین یاہو کی ملاقات کروائی جائے۔ اس کے لئے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے زیادہ نادر موقع اور کیا ہوسکتا تھا۔ یوں صدر اوباما کی عباس اور نتین یاہو سے نیویارک میں کئی گھنٹوں تک ملاقاتیں ہوئیں مگر باتوں کے دھنی صدر اوباما بھی جارج مچل کی طرح نیتن یاہو کو راضی کرنے میں ناکام دکھائی دئے۔ ملاقات کے بعد اوباما نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’بات بہت سادہ سی ہے۔ اب صرف مذاکرات شروع کرنے کی باتوں کا وقت گزر گیا۔ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ تاریخی واقعات اور حادثات کو پیچھے ڈال کر، سمجھ بوجھ کے ساتھ آگے بڑھنا اب لازم ہوچکا ہے۔ اسی لئے میرا نیتن یاہو اور محمود عباس کے لئے بہت کھلے الفاظ میں پیغام یہی ہے کہ مستقل بنیادوں پر مذاکرات دوبارہ شروع کئے جائیں اور اس عمل کا آغاز بہت جلد ہونا بہتر ہے۔‘‘

اپنے حالیہ دورہء امریکہ کے دوران امریکی نیوز چینل سی این این کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا: ’’مشرق وسطٰی میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عرب ممالک کا اسرائیل کو بطور ایک یہودی ریاست ماننے سے انکار ہے۔ ‘‘

Palästinensischer Präsident Abbas mit Saeb Erekat in Kairo

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور سرکردہ مذاکرات کار صائب ایراکات

فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے سرکردہ مذاکرات کار صائب ایراکات نے اصل مسئلے کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’‘یہودی آبادکاری کو، جو چاہے قدرتی نشونما کے نام پر ہی کیوں نہ ہو، ترک کر دینے کی بات کو فلسطینی انتظامیہ کی ایک شرط کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ دراصل اسرائیل اس آبادکاری کو روکنے کا پابند ہے، جس کے سرے امن روڈ میپ سے جا ملتے ہیں۔ میرے خیال میں اب اسرائیلی حکومت کے لئے بہتر موقع ہے کہ وہ روڈ میپ کا احترام کرتے ہوئے اس پابندی کی اہمیت کو سمجھے اور اسے فوری طور پر پورا کرے۔‘‘

گو کہ فلسطینی انتظامیہ بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے، تاہم اس کے لئے بین الااقوامی برادری کی حمایت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی انتظامیہ کو عالمی دباؤ، خاص طور سے امریکی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیلی موقف کے تنقیدی جائزہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو اس طرح کے بیانات دے کر امن مذاکرات سے اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں۔

تحریر: انعام حسن

ادارت: امجد علی

Audios and videos on the topic