1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقی یروشلم کا تاریخی ہوٹل گرانے کی مذمت

امریکہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک کی طرف سے مشرقی یروشلم کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں نئی اسرائیلی پیش رفت کی مذمت کی جارہی ہے۔

default

اسرائیل کی طرف سے یہودی آبادکاری کے سلسلے میں مشرقی یروشلم میں واقع ایک تاریخی ہوٹل کا ایک حصہ گرا دیا گیا ہے۔ شیفرڈ نامی اس ہوٹل کو گرانے کا مقصد وہاں 20 یہودی خاندانوں کے لیے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس تعمیر کرنا ہے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس عمل سے باز رہے۔ اقوام متحدہ نے مشرقی یروشلم کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ قرار دے رکھا ہے۔

عالمی برادری نے اسرائیل کی طرف سے یہودی آبادکاری کے لیے تاریخی شیفرڈ ہوٹل کمپلیکس گرانے کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اس اقدام کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے اس پر فکرمندی ظاہر کی ہے۔ کلنٹن کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں اس فیصلے کو غیر منطقی اور یروشلم کے مسئلے پر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ضروری مفاہمت کی کوششوں کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ کلنٹن کا کہنا ہے، ’یہ پریشان کن پیش رفت دو ریاستی حل کے سلسلے میں کی جانے والی امن کی کوششوں کو کمزور کرے گی۔‘

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں بار بار یہی کہوں گی کہ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ اس سے نہ صرف فریقین کے درمیان عدم اعتماد بڑھے گا بلکہ یہ امن عمل میں بھی رکاوٹ ہے۔‘

اردن کے وزیرخارجہ ناصر جودے نے ہوٹل کی عمارت گرانے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات روکنے کے لیے فوری کوشش کرے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس سے نہ صرف امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں بلکہ یہ فلسطینی علاقوں میں عدم استحکام کا بھی باعث بنیں گی۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امریکی کوششوں سے ہونے والےامن مذاکرات گزشتہ برس ستمبر میں اس وقت معطل ہوگئے تھے، جب اسرائیل نے آبادکاری پر لگائی گئی پابندی میں توسیع سے انکار کر دیا تھا۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس