1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقی یروشلم میں یہودی آباد کاری کا نیا منصوبہ بھی منظور

اسرائیل نے اکثریتی مسلم آبادی والے متنازعہ مشرقی یروشلم میں ایک بڑے سیاحتی مرکز اور یہودیوں کے لیے مزید 130 مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔

default

یہ دونوں فیصلے یروشلم کی شہری انتظامیہ کی منصوبہ بندی کمیٹی نے کیے ہیں، جس کے خلاف فلسطینیوں نے غصے کا اظہار کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں شہری انتظامیہ کے کونسلر پیپے الالو نے ان فیصلوں کی تصدیق کی ہے۔

سیاحتی مرکز کے لیے سلوان نامی علاقے کا انتخاب کیا گیا ہے، جو یروشلم شہر کے قدیم جنوبی حصے میں واقع ہونے کے سبب فلسطینیوں اور یہودیوں کے مابین تنازعے میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ منصوبے کے لیے جو زمین مختص کی گئی ہے، اسے فی الحال ایک پارکنگ ایریا کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہیں سے دُونگ نامی دروازے سے قدیم شہر کے یہودی کوارٹرز کے لیے راستہ جاتا ہے۔

سیاحتی مرکز کا انتظام ایلاد نامی ادارے کو سونپا جائے گا، جو یروشلم میں یہودی آبادی میں اضافے کا خواہش مند ہے۔ شہری انتظامیہ کے ترجمان سٹیفن مِلر کے مطابق اس ترقیاتی منصوبے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ’’سِٹی کونسل میں جو منصوبہ پیش کیا گیا، اس کے تحت یہاں نمائشی مرکز اور کانفرنس ہال جیسی سہولیات دستیاب ہو سکیں گی، جن کی مدد سے یہاں زمین سے برآمد ہونے والے اہم آثار قدیمہ کو نمائش کے لیے پیش کیا جا سکے گا۔‘‘

NO FLASH UN Anerkennung Palestina Mahmoud Abbas

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے ستمبر میں اقوام متحدہ میں رکنیت کی درخواست جمع کروادی تھی

فلسطینیوں نے اس اسرائیلی منصوبے کو اپنی آبائی زمین پر قبضے کی ایک اور سازش قرار دیا ہے۔ سلوان شہر بچاؤ کمیٹی کے سربراہ فاخری ابو دیاب کے بقول 8400 مربع میٹر کے اس منصوبے کے تحت مذہبی سیاحت اور آباد کاری کی سیاحت کو فروغ دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے اور اس کے ذریعے علاقے کو یہودیوں کے مرکز کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سلوان قدیم یروشلم کا حصہ اور یہودی و اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے زمانے کا شہر ہے۔ یہاں کے مقامی فلسطینیوں اور قریب 400 کٹر یہودی آباد کار گھرانوں کے مابین جھڑپیں معمول کی بات ہیں۔ بدھ ہی کو یروشلم کی شہری انتظامیہ نے گیلو نامی علاقے میں بھی یہودی آباد کاروں کے لیے 130 مکانات کے قیام کی منظوری دی۔

مشرق وسطیٰ میں یہودی آباد کاری کے منصوبوں کے سبب براہ راست امن مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ ایک سال سے بھی زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود منقطع چلا آ رہا ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا مستقل اور غیر منقسم دارالحکومت خیال کرتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM