1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقی یروشلم میں یہودی آبادکاری، امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ

مغربی اردن کے علاقے میں یہودیوں کی آبادکاری اور مسلسل تعمیراتی منصوبے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

default

مشرقی یروشلم میں قائم ایک یہودی بستی جہاں تعمیراتی منصوبے جاری ہیں

ان دنوں مقبوضہ عرب مشرقی یروشلم میں ایک نیا تعمیراتی منصوبہ وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کی حکومت پر شدید تنقید کا باعث بنا ہوا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ مغربی اردن اور مشرقی یروشلم کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد قریب پانچ لاکھ بنتی ہے۔

اگر اسرائیلی حکومت کو اپنی خواہشات پر عمل درآمد کا موقع مل گیا، تو ان آبادکاروں کی ایک بڑی تعداد آئندہ بھی وہیں رہائش پذیر رہے گی، کیونکہ فلسطینیو‌ں کے ساتھ حتمی امن معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں بھی اسرائیل ان علاقوں میں بڑی یہودی بستیاں قائم رکھنا چاہے گا۔

اسرائیلی حکومت نے امریکی دباؤ کے نتیجے میں گزشتہ برس نومبر میں ان علاقوں میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر پر دس ماہ کے لئے پابندی تو لگا دی تھی، مگر مشرقی یروشلم کے مقبوضہ عرب علاقے کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ اسرائیل یروشلم کے پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس امکان کو روکنا چاہتا ہے کہ فلسطینی مستقبل میں مشرقی یروشلم کو اپنی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا دارالحکومت بنا سکیں۔

اسی لئے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے امریکی صدر اوباما کی دعوت پر مذاکرات کے لئے پیر کو واشنگٹن روانہ ہونے سے پہلے بھی یہی کہا کہ مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں میں تعمیر و توسیع کا عمل جاری رہے گا۔

NO FLASH Ramat Sholmo Siedlung Jerusalem Ost

مشرقی یروشلم میں قائم رامات شولمو کی یہودی بستی میں اسرائیلی شہریوں کے لئے تعمیر کئے گئے مکانات

اسرائیل اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے مقبوضہ عرب مشرقی یروشلم می‍ں مقامی فلسطینی آبادی کے لئے حالات کو زیادہ سے زیادہ ناسازگار بناتا جا رہا ہے۔ جرمنی کی ایک معروف خاتون ماہر سیاسیات ہیلگا باؤم گارٹن، جو غزہ یونیورسٹی کی ایک پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی واضح طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ان کے آبائی رہائشی علاقے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک کونے میں دھکیلا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی آبادی اسرائیل کی یہودی بستیوں میں مسلسل توسیع سے متعلق سیاست پر بڑا تلخ رد عمل ظاہر کرتی ہے۔ خود فلسطینی سیاسی تنظیمیں اور ان کے رہنما آپس میں اس حد تک ایک دوسرے کے مخالف ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کا کسی متفقہ قومی نقطہ نظرتک پہنچ سکنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔

ان حالات میں مغربی اردن کے علاقہ اتنے زیادہ ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے کہ وہاں اسرائیل کی ایک ہمسایہ ریاست کے طور پر فلسطینیوں کی اپنے وجود کو برقرار رکھ سکنے والی کسی خود مختار ریاست کا قیام فی الحال ایک بڑی مشکل منزل دکھائی دیتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM