1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مشرقی يورپی رياستوں ميں سماجی ترقی، ہجرت ميں کمی کا سبب

يورپی يونين کی رکن مشرقی يورپی رياستوں ميں سماجی سطح پر ہونے والی ترقی کے نتيجے ميں امکان ہے کہ مستقبل ميں ان ملکوں کے شہریوں کی جانب سے بہتر زندگی کی تلاش ميں مغربی يورپ ہجرت کے رجحان ميں کمی واقع ہو جائے۔

اٹھائيس رکنی يورپی يونين کی رکن مشرقی يورپی رياستوں ميں معيار زندگی اور انسانی حقوق کی صورتحال ميں بہتری ديکھنے ميں آئی ہے۔ يہ انکشاف مختلف ممالک ميں سماجی ترقی پر نظر رکھنے والی ايک غير سرکاری تنظيم ’سوشل پروگريس امپيريٹیوَ‘ کے سالانہ ’سوشل پروگريس انڈيکس‘ ميں کيا گيا، جو انتيس جون کے روز برطانوی دارالحکومت لندن سے جاری کيا گيا۔

يہ سالانہ انڈيکس ايک ايسے وقت پر جاری کيا گيا، جب برطانيہ ميں پولش اور مسلمان رہنماؤں نے نسلی بنيادوں پر امتيازی سلوک اور نفرت پر مبنی پر تشدد واقعات کے حوالے سے اپنی تشويش کا اظہار کيا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے ريفرنڈم ميں برطانوی عوام نے يورپی يونين سے اخراج يا ’بريگزٹ‘ کے حق ميں فيصلہ کيا، جس کے بعد ايسے واقعات ميں اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔ اميگريشن کا معاملہ ريفرنڈم ميں کليدی اہميت کا حامل تھا۔

’سوشل پروگريس انڈيکس‘ تشکيل دينے والے ادارے کے سربراہ مائيکل گرين کا البتہ کہنا ہے کہ اس انڈيکس کے نتائج يعنی مشرقی يورپی رياستوں ميں سماجی ترقی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہتر زندگی اور ملازمتوں کی تلاش کرنے والے مشرقی يورپی مہاجرين کی تعداد ميں طويل المدتی بنيادوں پرکمی رونما ہو گی۔ گرين نے کہا، ’’برطانيہ ميں يہ بحث اور يہ قياس آرائی کی جا رہی تھی کہ مشرقی يورپ سے اميگريشن موجودہ رفتار سے يا مزيد تيزی کے ساتھ جاری رہے گی ليکن ان ملکوں ميں معيار زندگی ميں بہتری اور سماجی سطح پر ترقی کے سبب اميگريشن کے فوائد اور کشش ميں کمی ہو گی۔‘‘ ’سوشل پروگريس امپيريٹیوَ‘ کے سربراہ کا مزيد کہنا تھا کہ اس کا مطلب يہی ہے کہ طويل المدتی بنيادوں پر زيادہ تر لوگ اپنے ملکوں ميں ہی رہنے کو فوقيت ديں گے۔

مشرقی يورپ ميں سماجی ترقی، لوگوں کے ليے ہجرت کو کم پُر کشش بنا دے گی

مشرقی يورپ ميں سماجی ترقی، لوگوں کے ليے ہجرت کو کم پُر کشش بنا دے گی

مائيکل گرين نے بتايا کہ جنوبی يورپ ميں ساٹھ کی دہائی ميں بھی کچھ ايسا ہی ديکھنے ميں آيا تھا، جب خطے کے غريب ممالک سے لوگ ملازمت کے ليے امير ممالک ہجرت کيا کرتے تھے تاہم متعلقہ غريب ممالک ميں اقتصادی ترقی کے ساتھ ہی اس رجحان ميں کمی ہو گئی تھی۔

’سوشل پروگريس انڈيکس‘ ميں در اصل يہ ديکھا جاتا ہے کہ ممالک اور حکومتيں اپنے عوام کی سماجی اور ماحولياتی ضروريات پوری کرنے کے ليے کتنے وسائل بروئے کار لاتے ہيں۔ بدھ انتيس جون کو جاری کردہ انڈيکس ميں فن لينڈ سر فہرست ملک رہا، جبکہ 133 ممالک کی فہرست ميں آخری نمبر پر وسطی افريقی جمہوريہ رہا۔ نتائج کے مطابق سلووينيہ، چيک جمہوريہ، اسٹونيا، پولينڈ، کروشيا، سلوواکيہ، لیتھوينيا، ہنگری اور ليٹويا ميں سماجی ترقی کی رفتار تيز رہی، جس سبب ان ملکوں کی درجہ بندی اسی گروپ ميں کر دی گئی ہے، جس ميں امريکا، جرمنی، فرانس اور اٹلی موجود ہيں۔

’سوشل پروگريس انڈيکس‘ کے نتائج کے مطابق مشرقی يورپی رياستوں کے ليے يورپی بلاک کی رکنيت مفيد ثابت ہوئی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات