1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقی وسطیٰ امن کوارٹیٹ کی کوششیں، ناقدین کی رائے

مشرقی وسطیٰ امن کوارٹیٹ نے ماسکو میں ایک ملاقات کے بعد عہد کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کے مابین تعطل کے شکار مذاکرات کی بحالی کی کوشش کرتے رہیں گے۔ تاہم ناقدین نےاس کوارٹیٹ کی حکمت عملی پر تنقید کی ہے۔

default

اعلیٰ سفارتکاروں نے مذاکراتی عمل کی فوری بحالی پر زور دیا

یورپی یونین، امریکہ، اقوام متحدہ اور روس کے اعلیٰ سفارت کاروں نے جمعہ کے دن ماسکو میں مذاکرات کےاختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ وہ مشرقی وسطیٰ امن مذاکرات کو جلد سے جلد بحال کرانے کے لئے پرعزم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں میں نئے مکانات کی تعمیر فوری طور پر منجمد کر دینی چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے امن مذاکرات متاثر ہو رہے ہیں۔

اس خطے میں قیام امن کے لئے روسی سفارتکاروں کی شمولیت کے بعد ماسکو حکومت کو امید ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کے مابین تعطل شدہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں گے۔

تاہم ماسکو میں ہوئی اس اہم ملاقات کے بعد کئی ناقدین نے اس گروپ کی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ روسی دارالحکومت میں واقع ادارہ برائے مشرق وسطیٰ سے وابستہ ایوگنی زاٹانوفسکی نے کہا ہے کہ تلخ حقیقت نے روس کے ایسے تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لئے کوئی کردارادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے لئے بنایا گیا کوارٹیٹ، خود کو حقیقی دنیا سے دورکرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس گروپ کو ’مہنگے سفارت کاروں کا ایک کلب ‘ قرار دیا۔

Russland Nahost Israel Palästinenser Hillary Rodham Clinton in Moskau

اجلاس میں امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹں بھی شریک ہوئیں

جرمنی کے ایک ادارے برٹیلس مان فاونڈیشن سے منسلک کرسچین پے ٹر ہانیلٹ کہتے ہیں کہ یہ گروپ سال میں صرف دو مرتبہ ملاقات کرتا ہے اور وہ بھی مشرق وسطیٰ سے باہر۔ ان کے بقول مسئلہ کی شدید نوعیت کے مقابلے میں یہ رابطہ بہت کم ہے۔ تاہم ہانیلٹ کےمطابق اس گروپ میں کچھ کرنے دکھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ گروپ علامتی طور پر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایک عمدہ ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کئی تنازعات ہیں، جو آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے مستقبل میں کی جانے والی سفارت کاری میں تمام فریقین کو ایک میز پر لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں یہ کوارٹیٹ اس سلسلے میں اہم کردار کا حامل ہو سکتا ہے۔

جرمن خارجہ امور کی کونسل کے رکن آلموٹ مؤلرنے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے خیال میں دو ریاستی حل کے لئے خطے کے دیگر تنازعات کا خاتمہ ضروری ہے۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM