1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقی سرحدوں پر فوج تعینات رہے گی، نیتن یاہو

جارج مچل کے اسرائیل پہنچنے سے قبل، اسرائیلی وزیراعظم بن یامن نیتن یاہو نے واضح کیا کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد بھی اسرائیل، مشرقی سرحد پر اپنی فوج متعین رکھے گا۔

default

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں امریکی صدر باراک اوباما کے خصوصی مندوب جارج مچل ان دنوں ایک مرتبہ پھر خطے کے دورے پر ہیں۔ مچل، بدھ کو شام کے صدر بشار الاسد سے ملے جبکہ آئندہ دو روز میں اسرائیلی اور فلسطینی حکام سے ان کی ملاقاتیں متوقع ہیں۔

نیتن یاہو نے مشرقی سرحدوں پر فوج متعین رکھنے کے فیصلے کواسلحے کی مبینہ اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔ جنوبی لبنان اور غزہ پٹی سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں کے باعث اسرائیل دونوں علاقوں پر فوج کشی بھی کرچکا ہے۔

George Mitchell und Mahmoud Abbas Treffen in Ramallah

امریکی مندوب جارج مچل کی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ گزشتہ سال ملاقات ہوچکی ہے

تل ابیب حکومت کی جانب سے اب بھی شکایت کی جاتی ہے کہ لبنان سے حزب اللہ اور غزہ سے حماس کے عسکریت پسند اسرائیلی آبادیوں پر راکٹ برسانے میں ملوث ہیں۔ یروشلم میں ایک نیوز کانفرنس کے موقع پر نیتین ہاہو کا کہنا تھا وہ تیسری بار تجربہ دہرانا نہیں چاہتے بلکہ عسکریت پسندوں تک اسلحے کی اسمگلنگ کی روک تھام کا مؤثر بندوبست کرنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال برسر اقتدار آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے فلسطین کے ساتھ سرحدوں کے معاملے سے متعلق یہ پہلا عوامی بیان ہے۔ نیتین یاہو نے البتہ معاملے سے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحد پر اسرائیلی فوج کی تعیناتی سے متعلق یہ بیان یقینی طور پر فلسطینیوں کے غم و غصے میں اضافے کا باعث بنے گا ۔ فلسطینیوں کا مطالبہ رہا ہے کہ ٧ ٦ ١٩ کی جنگ سے قبل کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔

Soldaten an der Grenze zu Gaza

راکٹ حملوں کے تنازعے کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملے کے باعث خطے میں امن مذاکرات معطل ہیں

نیتین یاہو کا یہ بیان موقع کی مناسبت سے اس لئے بھی ذیادہ اہم ہے کہ خطے میں امن مذاکرات کی بحالی کی امریکی کوششوں کے سلسلے میں امریکی صدر کے خصوصی مندوب بھی خطے میں موجود ہیں۔ باراک اوباما کے خصوصی نمائندے جارج مچل لبنان کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کرنے کے بعد بدھ کی شام صدر بشارالاسد سے ملے۔ دمشق میں ہوئی ملاقات کو دراصل شام اور اسرائیل کے مابین امن مذاکرات کی بحالی کے ساتھ ساتھ امریکہ اور شام کے دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ مچل نے خطے میں قیام امن کے لئے ایک جامع امریکی منصوبے کا اعادہ کیا جس میں اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں کے مابین تعلقات کی بہتری کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ شامی صدر نے اس موقع پر انتہائی سادہ اور واضح انداز میں کہا کہ اسرائیل، قیام امن کے لئے اپنی رضا مندی ظاہر کرے۔ بشار الاسد نے خطے میں ترکی کے کردار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اگرچہ قائم ہیں مگر غزہ جنگ کے بعد سرد مہری کا شکار ہو گئے ہیں۔

جارج مچل آج جمعرات کو پہلے یروشلم میں اسرائیلی حکام سے ملیں گے جبکہ اگلے روز رملا میں اُن کی فلسطینی حکام سے ملاقات طے ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں خطے کے لئے امریکی مندوب کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے مچل فریقین سے متعدد بار ملاقاتیں کرچکے ہیں جس کا تاحال خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM