1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقی حلب: توپیں خاموش، انخلاء شروع

شامی شہر حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے لوگوں کےانخلاء کا عمل بالآخر شروع ہو گیا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری کے مطابق ایسے افراد کا پہلا گروپ حلب کے مشرقی حصے سے روانہ ہو گیا ہے جنہیں طبی مدد کی ضرورت تھی۔

شام کی خانہ جنگی پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق گزشتہ چار برس سے باغیوں کے زیر قبضہ رہنے والے حلب کے مشرقی حصے سے گاڑیوں کا ایک قافلہ روانہ ہو گیا ہے جو مریضوں کو حلب کے مغربی حصے میں حکومتی فورسز کے کنٹرول والے علاقے میں پہنچائے گا۔ یہ انخلاء باغیوں اور شامی فورسز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہے۔

تاہم آبزرویٹری کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابھی تک حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے عام شہریوں یا باغیوں کے انخلاء کا عمل شروع نہیں ہوا۔ مشرقی حلب سے باغیوں کے انخلاء کے ساتھ ہی شام کے اس شہر میں گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔

سویلین اور باغیوں کے انخلاء کی تیاریاں مکمل

دوسری طرف شامی فوجی حکام کی طرف سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مشرقی حلب سے عام شہریوں اور باغیوں کے انخلاء کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ بسوں کو مشرقی حلب میں پہنچا دیا گیا تا کہ سویلین محفوظ علاقے کی جانب روانہ ہو سکیں۔ ریڈکراس کی طرف سے مزید بتایا گیا کہ ان بسوں کے علاوہ شدید زخمیوں اور بیمار افراد کے لیے کم از کم دس ایمبولینسیں بھی وہاں موجود ہیں۔  اُدھر لبنان کی انتہا پسند تنظیم حزب اللہ کے عسکری ونگ نے بھی بتایا ہے کہ گزشتہ رات میں فائربندی کے بعد مسلح باغیوں کا انخلا شروع ہو جائے گا۔

Syrien Aleppo nach der Kapitulation der Rebellen (picture-alliance/dpa/TASS/T. Abdullayev)

حلب میں گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے

روسی فوجی باغیوں کو مشرقی حلب سے باہر لے کر جائیں گے

روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ روسی فوجی اپنی سربراہی میں مشرقی حلب سے باغیوں کو باہر لے کر جائیں گے۔ روسی وزارت دفاع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ فوج کو اس حوالے سے احکامات روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق شامی حکام نے ان باغیوں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مشرقی حلب سے نکلنے والے باغیوں کو شام کے شمال مغربی شہر ادلب پہنچایا جائے گا۔

روس کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ شامی فوج ان باغیوں کو لے جانے والے 20 بسوں اور 10 ایمبولینسوں پر مشتمل قافلے حفاظت یقینی بنانے کے لیے سفر کے دوران اس کی فضائی نگرانی بھی کرے گی۔