1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرف کے ہاتھوں چیف جسٹس کی برطرفی کو چار سال ہو گئے

پاکستان میں آج وکلاء نے جزوی طور پر یوم سیاہ منایا ۔ ٹھیک چار سال قبل آج کےدن یعنی نو مارچ2007ء کو اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال کر دیا تھا۔

default

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے چلنے والی تحریک کے روح رواں اعتزاز احسن اس دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہیں جب ایک آمر نے ملکی عدلیہ کے اعلٰی ترین جج کو غیر آئینی طریقے سے ان کے منصب سے ہٹایا تھا۔ اعتزاز احسن نے اس امر کو بھی افسوسناک قرار دیا کہ آج سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے یوم سیاہ منانے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے کہا:

’’تاریخ کو یاد رکھنا اور اس سے سبق سیکھنا بڑا ضروری ہوتا ہے۔ 9 مارچ کا دن انکار کا دن تھا۔ چیف جسٹس نے اس دن فوجی قیادت کے سامنے ڈٹ کر انکار کیا، اس کے بعد وکلاء نے ایک تحریک چلائی اور وکلاء کی یہ تحریک بڑی جاندار تھی ،جس میں ساری قوم شامل ہو گئی۔ اس سے عدلیہ کو بحال کرانے میں ساری قوم ، میڈیا اور وکلاء نے بہت کام کیا۔‘‘

Protestierende Anwälte in Islamabad, Pakistan

چیف جسٹس کی بحالی میں وکلاء تحریک نےبڑا کردار ادا کیا

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد تو ضرور ہے لیکن اب بھی عدلیہ کی ریاست کے دیگر دو دیگر ستونوں انتظامیہ اور مقننہ کے ساتھ کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سابق وزیر قانون افتخار گیلانی کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلی بار اتنی آزاد عدلیہ موجود ہے، جس پر تمام لوگوں کو مکمل اعتماد ہے ۔ اس لیے ہر کوئی اپنے مسائل لے کر عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ انہوں نے کہا:

’’موجودہ حکومت کا سارا رویہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی والا ہے ۔ بات بات پر حکمران کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے عدالتی احکامات نافذ نہیں ہونے دے رہے۔ عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور اس سے ملک کو نقصان ہو گا۔‘‘

Parkistan Politik Musharraf

پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال کر دیا تھا

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وکلاء تحریک میں سرگرم متعدد وکیل رہنما باہم دھڑے بندی کا شکار ہو گئے اور متعدد مواقع پر عدلیہ پر تنقید کرتے بھی نظر آئے۔ تحریک کے ایک اہم رہنما علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ عام آدمی کی عدلیہ سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔’’ یہ وہ عدلیہ نہیں جس کا خواب اس کی بحالی کی جدوجہد کرنے والوں نے دیکھا تھا۔‘‘

سینیئر وکیل اکرام چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کرپشن کے متعدد کیسوں کے فیصلے آنے کے بعد ان کے ثمرات عوام تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا:

’’آئینی اور دیگر اہم امور پر عدالتیں عملدرآمد یا فیصلے کرتی ہیں تو دراصل وہ ا ہم اداروں کی مضبوطی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں اور اس کا بالواسطہ فائدہ عام آدمی کو ہی پہنچتا ہے۔‘‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر بھی موجودہ عدلیہ کے بعض فیصلوں سے مطمئن نہیں اور وہ کہتی ہیں کہ کیس کی سماعت کے دوران ججوں کو ریمارکس نہیں دینے چاہیئں۔ گزشتہ ماہ مدت ملازمت میں توسیع پوری کرنے کے بعد ریٹائرہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے معاملے میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی تھی جب سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے ان کی مدت ملازمت میں ایک سال کی مزید توسیع کے حق میں قرارداد منظور کی تو وکلاء رہنماؤں نے اس قرارداد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے ججوں کی بحالی کی تحریک میں چیف جسٹس کے بعد معزول ہونے والے دیگر ججوں میں سب سے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔ لیکن عاصمہ جہانگیر نےاس بارے میں یہاں تک انتباہ کر دیا کہ تھا کہ اگر جسٹس رمدے کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تو وکلاء احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

رپورٹ: شکور رحیم،اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس