1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مشرف کے لئےسیاست میں جگہ نہیں: پاکستانی رہنما

پاکستانی کے اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے لئے ملک کے سیاسی میدان میں کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔ مشرف نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں پاکستانی سیاست میں واپسی کا اعلان کیا تھا۔

default

مشرف نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت کے ساتھ اگلے پارلیمانی انتخابات میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں آئندہ انتخابات میں سن 2013ء میں منعقد ہونے ہیں۔

Jubelnde Richter in Pakistan

چیف جسٹس کی معطلی نے مشرف کی مقبولیت میں خاصی کمی کی تھی

پاکستانی کی مذہبی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP سے بات چیت میں کہا: ’’مشرف ایک ’بزدل‘ انسان ہے اور وہ کبھی پاکستان واپس نہیں آئے گا۔‘‘

لیاقت بلوچ کے مطابق ملک اپنی تاریخ کے جن بدترین بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان کی وجہ سابق صدر مشرف کی غلط پالیسیاں ہیں۔

’’نہ اسے عوام کی حمایت حاصل ہو گی اور نہ ہی اس میں پاکستان واپسی کی ہمت ہو گی۔‘‘

سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وطن واپسی پر ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو اس بدترین صورتحال سے نکالنے کے لئے اپنی سی کوشش ضرور کریں گے۔

Pakistan Ehemaliger Premierminister Nawaz Sharif

مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا

پاکستان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے مشرف کے اس انٹرویو پر اپنے ردعمل میں کہا : ’’فوج کے بہادر کمانڈو نے ملکی عدالتوں کا سامنا کرنے کے بجائے ملک سے فرار ہونا مقدم سمجھا تھا۔‘‘

سابق جنرل مشرف نے سن 1999ء میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اس وقت کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ سن 2008ء میں صدارتی عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد سے اب تک مشرف لندن میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔

فاروق کے مطابق : ’’اگر وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے صدر بن جائیں گے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔‘‘

فاروق نے کہا کہ مشرف کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انہیں وطن واپسی پر عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس