1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرف دور میں لگائی گئی ایمرجنسی، عدالت عظمیٰ میں سماعت

پاکستان کی سپریم کورٹ میں تین نومبر 2007 ءکے اقدام کے خلاف دائر درخواست سمیت دیگر آئینی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔

default

سپریم کورٹ میں جاری اس مقدمہ کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے

بدھ کی صبح 3 نومبر 2007ء کی ہنگامی حالت کے نتیجے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے 62 ججوں کی معزولی سے متعلق کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سابق صدر پرویز مشرف نہ تو خود پیش ہوئے اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی وکیل سامنے آیا، جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ جنرل مشرف نے لندن سے مختلف ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے انٹرویوز میں اپنے اقدامات کی وضاحت کےلئے عدالت عظمیٰ کا سامنا کرنے کے جو دعوے کئے تھے وہ کم از کم فی الحال پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔

اس حوالے سے تعجب انگیز امر یہ بھی ہے کہ باضابطہ طور پر بھی بیرسٹر سیف حفیظ پیر زادہ اور ایس ایم ظفر جیسے وکلاء جو 1999ء کی فوجی بغاوت کے بعد جنرل مشرف کے دفاع میں پیش پیش رہے تھے، تاحال منظر عام پر نہیں آئے۔

Pervez Musharraf

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف

دوسری طرف اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کی موجودگی میں معروف وکیل حامد خان نے 3 نومبر کے اقدامات کی اس وقت کی متنازعہ سپریم کورٹ کے ذریعے توثیق کے آرڈر میں قانونی سقم اور خامیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ مخصوص حالات کے تحت غیر آئینی اقدامات کی توثیق کسی بھی صورت باجواز اور آئینی نہیں بن سکتی۔ کئی گھنٹے پر محیط سماعت کے بعد حامد خان نے صحافیوں کو بتایا کہ 3 نومبر کے حوالے سے اقبال ٹکا کیس کا از سر نو جائزہ جمہوری اور آئینی تقاضوں کے لحاظ سے بہت ضروری ہے: ’’غیر آئینی چیز اس لمحے سے غیر آئینی ہوتی ہے، جب اس کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ 3 نومبر کے اقدامات آج سے غیر آئینی ہوں گے، وہ اقدامات 3 نومبر سے ہی غیر آئینی ہیں اور ان اقدامات کی توثیق جو ٹکا اقبال نے کی وہ بھی اسی دن سے غیر آئینی ہے۔ ہماری یہی کوشش ہے کہ غیر آئینی فیصلوں کی دوبارہ سماعت کرکے ان کو قابل اطمینان بنایا جائے،کیونکہ ٹکا اقبال کا فیصلہ آئینی فیصلہ نہیں تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔‘‘

سپریم کورٹ میں ایمرجنسی کے حوالے سے جاری کیس سیاسی و قانونی حلقوں میں غیر معمولی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔ بعض حلقوں نے تو اس حوالے سے سابق صدر پرویز مشرف کے مختلف چینلز پر انٹرویوز کو ان کی سیاسی بحالی کی ایک مہم بھی قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں اس مقدمے کے ذریعے مشرف کی ساکھ بحال کر ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔تاہم اگر ماضی میں فوجی آمروں کی بعد از سبکدوشی کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو شاید مستقبل قریب میں جنرل مشرف کے لئے وطن واپسی آسان نہ ہو۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM