1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مشتری کے ایک چاند پر پراسرار سرگرمیاں جاری

امریکی خلائی ادارےناسا نے نظام شمسی کے بڑے سیارے مشتری کے ایک چاند کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ جوپیٹر یا مشتری کے اِس چاند کا نام یورپ رکھا گیا ہے اور یہ پوری طرح برف تلے دبا ہوا ہے۔

امریکا کے قومی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے ہبل اسپیس دوربین کی ذریعے مشتری سیارے کے ایک چاند کی تصاویر کا بغور جائزہ اور مطالعہ کرنے کے بعد جو معلومات اکھٹی کی ہیں، اُن کو انتہائی حیران کن قرار دیا جا رہا ہے۔ ان معلومات کے مطابق یورپ نامی اِس چاند کی برفیلی تہوں کے اندر سیال پانی کے سمندر کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اِس سمندر میں زندگی کے کچھ آثار موجود ہو سکتے ہیں۔

یورپ نامی چاند پوری طرح برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ حالیہ انکشافات سے قبل ماہرین نے امکان ظاہر کیا تھا کہ پانی کے ساتھ ساتھ اِس چاند پر زندگی افزائش پا سکتی ہے۔ ناسا کے بیان میں کہا گیا کہ جو کیفیات دیکھی گئی ہیں، وہ یقینی طور پر حیران کن ہیں کیونکہ پہلی مرتبہ ایسی شہادت دستیاب ہوئی ہے کہ وہاں زندگی کا سراغ ممکن ہے۔

Planet Jupiter

نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ مشتری ہے

 اِن انکشافات پر مبنی ایک اہم پریس کانفرنس پرسوں پیر کے روز کی جائے گی۔ اس کانفرنس میں ناسا کے فلکیاتی طبیعات کے شعبے کے ڈائریکٹر پال ہرٹز خطاب کریں گے۔ پریس کانفرنس میں امریکی شہر بالٹی مور میں قائم اسپیس ٹیلی سکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کے فلکیاتی سائنس کے ماہر ولیم اسپارکس بھی شریک ہوں گے۔ یہ دونوں حضرات مشتری کے یورپ نامی چاند کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کو عام کریں گے اور رپورٹرز کے سوالات کے جواب بھی دیں گے۔

ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ اگر اِس کی تصدیق ہو گئی کہ وہاں کوئی سمندر ہے تو پھر اِس سیال مادے یا پانی جیسے محلول کی کیمیاوی ساخت پر غور و خوص کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ اِس سیال مادے کی ہیئت کس حد تک پانی جیسی ہے۔ یہ کسی خلائی جہاز کو برفانی سطح پر اتارنے کے بعد حاصل ہونے والے مادے کی ساخت کی مکمل تحقیق کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔

نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے مدار میں پچاس کے قریب چاند محوِ حرکت ہیں۔ اس سے قبل دو دوسرے چاند ارورا اور گینیمیڈ دریافت کیے جا چکے ہیں۔ ارورا پر مشتری سیارے کی مقناطیسی اثرات بہت زیادہ محسوس کیے گئے تھے۔