مشترکہ ترقیاتی بینک کا منصوبہ: برِکس ملکوں نے توثیق کر دی | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشترکہ ترقیاتی بینک کا منصوبہ: برِکس ملکوں نے توثیق کر دی

دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے گروپ برِکس نے ایک نیا ترقیاتی بینک قائم کرنے کے منصوبے کی توثیق کر دی ہے۔ یہ بینک ترقی پذیر ملکوں میں منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا۔

default

برِکس ملکوں کے رہنما

اس بات کا فیصلہ نئی دہلی میں برِکس گروپ کے چوتھے سالانہ اجلاس میں کیا گیا۔ اس میں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ، چینی صدر ہو جنتاؤ، برازیل کی صدر ڈلما روسیف، روسی صدر دیمتری میدویدیف اور جنوبی افریقہ کے صدر جیک زوما شریک تھے۔

برکس کا یہ اجلاس جمعرات کو نئی دہلی میں ہوا۔ اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں کی معاونت میں ناکام ہوتے جا رہے ہیں اور برِکس ممالک ایک ترقیاتی بینک کی بنیاد رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جس کے فنڈز بھی وہ خود مہیا کریں گے اور اس کا انتظام بھی ان کے پاس ہو گا۔

ان کا کہنا تھا: ’’ہم نے اپنے وزرائے خزانہ سے مجوزہ منصوبے کا جائزہ لینے اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا ہے۔‘‘

اس حوالے سے ساؤ پاؤلو سے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اولیور اسٹوئنکیل کا کہنا ہے کہ برکس میں مشترکہ سیاسی اداروں کے قیام سے اتحاد کا جذبہ مستحکم ہو گا۔ ان کا کہنا ہے: ’’برِکس ڈیویلپمنٹ بینک کا قیام ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت کا نتیجہ ہے۔ اقتصادی تعاون پھر سے موضوع بن گیا ہے۔‘‘

BRIC Medwedew

روسی صدر دیمتری میدویدیف

برِکس کے اس اجلاس میں رکن ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے دو معاہدے بھی طے پائے ہیں، جن کے تحت کاروبار کے لیے مقامی کرنسیوں میں قرضے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ان ملکوں کے ترقیاتی بینک کریڈٹ لائن کو ایک دوسرے تک توسیع دے سکیں گے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق ان معاہدوں سے برِکس کے رکن ملکوں کے درمیان 2015ء تک باہمی تجارتی حجم 500 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو گزشتہ برس 230 ارب تھا۔

روسی صدر دیمتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے برِکس مستقبل میں ایک طاقتور گروپ بن کر ابھرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رکن ملکوں کو باہمی سیاسی اعتماد کو فروغ دینا چاہیے اور بین الاقوامی اقتصادی، تجارتی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہیے۔

اس اجلاس سے قبل برازیل کے وزیر صنعت و تجارت فرنینڈو پمینٹل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ بات چیت میں یورپ اور امریکا کی مالیاتی پالیسیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔ روئٹرز نے اس بلاک کے دیگر وزرائے تجارت کے حوالے سے بتایا تھا کہ وہ ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل / ڈی پی اے، روئٹرز

ادارت: امجد علی