1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مشتبہ پاکستانی عسکریت پسند: امریکہ سے برطانوی مطالبہ

برطانیہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پاکستانی شہری کو لندن کے حوالے کیا جائے، جو ایک مشتبہ عسکریت پسند ہے اور افغانستان میں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے امریکی فوج کی حراست میں ہے۔

default

لندن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس پاکستانی شہری کی عمر 29 برس ہے اور لندن حکومت نے امریکہ سے اسے برطانیہ کے حوالے کیے جانے کے درخواست ایک عدالتی فیصلے کے بعد کی ہے۔ خبر ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ برطانوی حکومت کے بدھ کے روز جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق لندن کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اس پاکستانی شہری کا افغانستان میں امریکی فوج کی حراست میں ہونا، برطانیہ کے ایک قدیم قانون کی خلاف ورزی ہے۔

دہشت گردی کے شبے میں زیر حراست اس پاکستانی شہری کا نام یونس رحمت اللہ ہے اور اسے برطانوی فوجی دستوں نے سن 2004 میں عراق سے گرفتار کیا تھا۔ بعد میں یونس کو امریکی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا، جنہوں نے اسے افغانستان منتقل کر دیا تھا۔ افغانستان میں یونس رحمت اللہ کسی بھی طرح کی عدالتی کارروائی یا اپنے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کے بغیر امریکی فوج کی حراست میں ہے۔

ein Jahr Obama Flash-Galerie

دہشت گردی کے شبے میں زیر حراست اس پاکستانی شہری کا نام یونس رحمت اللہ ہے اور اسے برطانوی فوجی دستوں نے سن 2004 میں عراق سے گرفتار کیا تھا

لندن میں برطانوی کورٹ آف اپیلز نے گزشتہ ہفتے یہ فیصلہ دیا تھا کہ یونس کو ایک بہت پرانے برطانوی قانون کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ حبس بے جا سے متعلق اس قانون کے تحت برطانوی حکام اس امر کے پابند ہیں کہ وہ کسی بھی قیدی کو یا توکسی عدالت میں پیش کریں یا پھر اس کی غیر حاضری کی وضاحت کریں۔

اس پس منظر میں برطانوی دفتر خارجہ نے، جو امریکہ کو اس بات پر مجبور نہیں کرنا چاہتا کہ یونس رحمت اللہ کو لندن کے حوالے کیا جائے، رحمت اللہ کے بارے میں عدالتی فیصلے کے بعد اگلے 48 گھنٹوں کے اندر اندر واشنگٹن سے یہ باقاعدہ درخواست کر دی کہ رحمت اللہ کو برطانوی حکام کے حوالے کیا جائے۔

لندن میں اپیلز کورٹ کے فیصلے کی خاص بات یہ ہے کہ برطانوی حکومت اس عدالتی حکم کے خلاف تو کوئی اپیل نہیں کر سکتی لیکن وہ ایسے کسی بھی فیصلے سے متعلق قانونی ضابطوں کے سلسلے میں اپیل بہرحال کر سکتی ہے۔ برطانیہ میں Habeas Corpus نامی قانون قرون وسطیٰ میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کا مقصد بادشاہ کی اپنے مخالفین کو خفیہ طور پر ٹھکانے لگانے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

اس مقدمے میں وکلاء نے دعویٰ کیا تھا کہ رحمت اللہ کی گرفتاری برطانوی فوجیوں کے ذریعے عمل میں آئی تھی اور قانونی طور پر ابھی بھی یہ برطانیہ ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پاکستانی شہری کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنائے۔ اس سے قبل برطانوی کورٹ آف اپیلز نے اس قانون کے دائرہ اثر میں توسیع کرتے ہوئے اس میں برطانیہ کی بیرون ملک کارروائیوں کو بھی شامل کر دیا تھا۔

US Armee Training Afghanistan

یونس رحمت اللہ کسی بھی طرح کی عدالتی کارروائی یا اپنے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کے بغیر اب افغانستان میں امریکی فوج کی حراست میں ہے

لندن میں برٹش فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس نے بتایا ہےکہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے اپیلز کورٹ سے اجازت طلب کر لی گئی ہے۔ تاہم ساتھ ہی عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے یونس رحمت اللہ کے برطانیہ کے حوالے کیے جانے سے متعلق لندن اور واشنگٹن کے مابین خط و کتابت بھی شروع ہو چکی ہے۔

ایک ایسے پاکستان شہری کے بارے میں، جس کا برطانیہ سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا، لندن کی اپیلز کورٹ میں مقدمہ Reprieve نامی ایک قانونی امدادی تنظیم کی طرف سے دائر کیا گیا تھا۔ اب اسی تنظیم نے امریکی صدر باراک اوباما سے بھی یہ اپیل کر دی ہے کہ وہ برطانیہ کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے یونس کو لندن کے حوالے کر دے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس