1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مشتبہ دہشت گرد کو يورپ بھيجنے کی کوشش، اسمگلرز گرفتار

اطالوی پوليس نے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ايک ايسے گروہ کے کئی ارکان کو پکڑا ہے، جو غير قانونی تارکين وطن کی صفوں ميں چھپا کر ايک ’مشتبہ دہشت گرد‘ کو يورپ بھيجنے کی کوششوں ميں تھے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اطالوی حکام نے تيونسی مجرموں کی قيادت ميں انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ايک گروہ کے پندرہ ارکان کو حراست ميں لے ليا ہے۔ پوليس کی طرف سے آج منگل کو جاری کردہ بيان ميں مطلع کيا گيا کہ يہ گروہ ايک ’مشتبہ دہشت گرد‘ کو اٹلی کے خودمختار علاقے اور بحيرہ روم کے سب سے بڑے جزيرے سسلی بھيجنے کی کوششوں ميں تھا۔ پوليس کے مطابق ابتدائی تفتيش سے پتہ چلا ہے کہ متعلقہ شخص تيونس ميں دہشت گردی کے ليے مطلوب تھا اور اسے ماضی ميں ايک مرتبہ اٹلی سے ملک بدر کيا جا چکا ہے۔

جس گروہ کے ارکان کو حراست ميں ليا گيا ہے، اسے کافی خطرناک تصور کيا جاتا ہے۔ گروہ ميں اکثريتی طور پر تيونس کے ايسے شہری شامل ہيں جو اپنے آبائی ملک ميں مختلف جرائم کے ليے مطلوب ہيں۔ گروہ ميں چند ايک اطالوی شہری بھی شامل ہيں، گو کہ اطالوی ارکان مجرمانہ سرگرميوں کی مرکزی ذمہ دارياں نہيں سنبھالتے تھے۔ گرفتار شدہ افراد پر شک ہے کہ وہ انسانوں کی اسمگلنگ کے علاوہ تمباکو نوشی کی اشياء کی اسمگلنگ ميں بھی ملوث ہيں۔

اس گروہ کے ارکان تارکين وطن کو تيونس سے سسلی لے جاتے رہے ہيں۔ حکام کے اندازوں کے مطابق يہ اسمگلر ہر تارک وطن سے دو سے تين ہزار يورو وصول کرتے تھے اور يوں غير قانونی تارکين وطن کی ايک کشتی سسلی پہنچانے پر انہيں تقريباً چاليس ہزار يورو ملتے تھے۔ يہ امکان بھی ظاہر کيا گيا ہے کہ يہ انسانی اسمگلر ہر ہفتے دو مرتبہ مہاجرين کی تيونس سے سسلی منتقلی کے وسائل رکھتے تھے۔ انسانوں کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ یہ تمباکو نوشی کی اسمگلنگ سے بھیکافی مالی فائدہ حاصل کر رہے تھے۔