مشتبہ باغیوں کا حملہ، تین بھارتی فوجی ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 05.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشتبہ باغیوں کا حملہ، تین بھارتی فوجی ہلاک

بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب مشتبہ باغیوں نے فائرنگ کرتے ہوئے تین بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کیا گیا۔

بھارتی فوج کے ترجمان کے مطابق پیر کی صبح حافرودہ جنگل میں عسکریت پسندوں کی تلاش جاری تھی کہ انہیں اپنے تین فوجیوں کی لاشیں ملی۔ حافرودہ جنگل بھارتی زیر کنٹرول کشمیر کے مرکزی مقام سری نگر سے تقریباﹰ ایک سو چالیس کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل این این جوشی کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے تین فوجی مارے گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں گزشتہ شب اس وقت ہوئیں، جب عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔‘‘

کرنل جوشی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات پیش آنے والے ایک دوسرے واقع کے دوران وادی لولب میں مسلح عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم بھارتی فوج کی طرف سے نہ تو مارے جانے والے باغیوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں اور نہ ہی ان خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن ہو پائی ہے۔

قبل ازیں بھارتی فوج نے اتوار کے روز بھی دعویٰ کیا تھا کہ سری نگر کے جنوب میں دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں دو باغی مارے گئے ہیں۔ بھارتی فوج نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے دونوں باغیوں کا تعلق پاکستان میں موجود عسکری گروپ جیش محمد سے تھا۔ اس واقعے میں ایک بھارتی فوجی کے زخمی ہونے کا بھی بتایا گیا تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ بھارت مسلسل پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ باغیوں کو مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تربیت دے کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل کرتا رہتا ہے۔ اسلام آباد حکومت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتی ہے تاکہ انہیں اپنی شناخت کا حق حاصل ہو سکے اور یہ کہ پاکستان مستقبل میں بھی سفارتی سطح پر ایسا کرتا رہے گا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد باغی گروپ سرگرم ہیں اور وہ گاہے گاہے مختلف مقامات پر تعینات بھارتی فوجیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ان گروہوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں زیادہ خود مختاری یا پھر بھارت سے آزادی چاہیے۔ کشمیر میں متعین بھارتی فوجیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اب تک ان مسلح کارروائیوں اور کشمیریوں کی سیاسی ہڑتالوں اور مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے بھارت کے سامنے ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں متنازعہ علاقوں سے فوجیں پیچھے ہٹا لینے کی تجویز بھی شامل تھی۔ تاہم بھارت کی طرف سے یہ منصوبہ مسترد کر دیا گیا تھا۔