1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشتبہ آسٹرین شہری القاعدہ کا سینئر رکن ہو سکتا ہے

آسٹریا میں گرفتار کیے جانے والے ایک نوجوان مقامی باشندے کے بارے میں حکام کو شبہ ہے کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کا ایک سینئر رکن ہو سکتا ہے۔

default

ویانا سے موصولہ مختلف خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق آسٹرین روزنامے ’دی پریسے‘ نے اپنی آج اتوار کی اشاعت میں لکھا ہے کہ ملکی دارالحکومت ویانا میں ریاستی دفتر استغاثہ کے تفتیش کاروں نے اس مشتبہ دہشت گرد کے خلاف باقاعدہ چھان بین کا آغاز کر دیا ہے۔

اس ملزم کا عرف عام میں نام صرف ’درِس‘ Driss بتایا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر ادریس (Idriss) کی مختصر شکل بھی ہو سکتی ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ مشتبہ عسکریت پسند پاکستان اور افغانستان کے درمیان قبائلی علاقے میں مقیم رہ چکا ہے۔

Deutschland G8 Polizeikontrolle Schengen Autobahn Grenze

گزشتہ کچھ برسوں میں جرمنی سمیت یورپ بھر میں سکیورٹی انتظامات میں خاصا اضافہ ہوا ہے

ویانا کے اخبار ’دی پریسے‘ نے اس بارے میں اپنی رپورٹ میں دہشت گرد گروپوں کی روک تھام اور ان کے خلاف کارروائیوں سے متعلقہ امور کے ایک امریکی ماہر پال کرؤکشینک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’درِس‘ مبینہ طور پر پاک افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقے میں آسٹریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو نوجوانوں کے ایک گروپ کا سربراہ بھی رہ چکا ہے۔

جرمنی کے ہمسایہ ملک آسڑیا میں ملکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو اس نوجوان کے بارے میں پہلی مرتبہ بنیادی معلومات سن 2005 میں حاصل ہوئی تھیں۔ ویانا میں سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان ماضی میں صالح الصومالی کا بہت قریبی ساتھی بھی رہ چکا ہے۔

صالح الصومالی کا شمار القاعدہ کے بہت پرانے اور تجربہ کار ارکان میں ہوتا تھا۔ یہ عسکریت پسند سن 2009 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

Die Presse کی رپورٹ کے مطابق ’درِس‘ 1983 میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا آبائی گھر ویانا میں ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر اسلام قبول کر چکا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM