1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مس وہیل چیئر ورلڈ کا پہلا مقابلہ بیلاروس کی حسینہ نے جیت لیا

دنیا کی بہت خوبصورت لیکن وہیل چیئر استعمال کرنے والی خواتین کا پولینڈ میں منعقدہ اپنی طرز کا پہلا مس وہیل چیئر ورلڈ مقابلہ بیلاروس کی ایک لڑکی نے جیت لیا۔ اس مقابلے کا مقصد معذوروں سے متعلق عمومی سوچ کو تبدیل کرنا تھا۔

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا سے اتوار آٹھ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اپنی نوعیت کے اس اولین بین الاقوامی مقابلے کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ مختلف معاشروں میں معذور انسانوں کی کسی نہ کسی جسمانی معذوری کے باعث ان سے متعلق پائی جانے والی روایتی سوچ کو تبدیل کیا جائے۔

اس بین الاقوامی مقابلے کا اہتمام پولینڈ کی ایک تنظیم نے ہفتہ سات اکتوبر کی رات وارسا میں کیا اور اس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اس عمومی زاویہء نگاہ کو بدلنے کی ضرورت ہے، جس سے کسی بھی معاشرے میں معذور انسانوں کو دیکھتا جاتا ہے۔

اس مقابلے میں مس وہیل چیئر ورلڈ کا اعزاز بیلاروس کی ایک حسینہ نے حاصل کیا جبکہ دوسرے نمبر پر جنوبی افریقہ کی ایک لڑکی اور تیسرے نمبر پر میزبان ملک پولینڈ کی وہیل چیئر استعمال کرنے والی ایک نوجوان خاتون رہی۔ ’مس وہیل چیئر ورلڈ‘ بننے والی بیلاروس کی 23 سالہ آلیکساندرا چیچیکووا نے بعد ازاں حاضرین سے خطاب کیا، تو انہوں نے خاص طور پر دیگر معذور خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’آپ بھی اپنے خوف اور خدشات پر قابو پائیں۔‘‘

اس مقابلے کا اہتمام پولینڈ کی جس تنظیم نے کیا، اس کا نام ’اونلی ون فاؤنڈیشن‘ (Only One Foundation) ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد دو ایسی خواتین نے رکھی تھی، جو خود بھی معذور ہیں اور جن کی خواہش یہ تھی کہ ان سماجی حدود و قیود کا خاتمہ کیا جائے، جن کا معذور افراد کو اپنی معاشرتی زندگی میں سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن کی وجہ سے وہ زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

Polen Miss Wheelchair World 2017 in Warschau

اس مقابلے میں مس وہیل چیئر ورلڈ کا اعزاز بیلاروس کی آلیکساندرا چیچیکووا نے حاصل کیا

اسی تنظیم کی طرف سے ماضی میں چار مرتبہ ملکی سطح پر مس وہیل چیئر پولینڈ کے مقابلوں کا اہتمام بھی کیا جا چکا ہے۔ ہفتے کی رات منعقد کیا گیا مس وہیل چیئر ورلڈ مقابلہ وہ پہلی کاوش تھا، جس کے ذریعے اس مقابلے کا قومی کے بعد اب بین الاقوامی سطح پر انعقاد کیا گیا۔

عالمی مقابلہ حُسن بالی میں ممکن نہیں

تیونس کی فاطمہ بن غفریش ’ مس اسلامک ورلڈ‘

اس مقابلہ حسن کے انعقاد میں منتظمین کو وارسا شہر کی مقامی انتظامیہ کا تعاون بھی حاصل رہا۔ ’اونلی ون فاؤنڈیشن‘ کے مطابق کسی بھی وہیل چیئر میں بیٹھی ہوئی ہر لڑکی اور ہر خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھی ’خود کو خوبصورت محسوس کرے اور جو کچھ بھی بننا چاہے، بغیر کسی رکاوٹ کے بن سکے‘۔

مس وہیل چیئر ورلڈ مقابلے کا نام اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال خواتین کا جو عالمی مقابلہ حسن کروایا جاتا ہے، وہ مس ورلڈ مقابلہ کہلاتا ہے۔ اس مقابلے میں شرکاء کی طرف سے وہیل چیئر کے استعمال کے باعث اسے مس وہیل چیئر ورلڈ کا نام دیا گیا۔

DW.COM