1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مسیحی مہاجرین کو ترجیح دی جائے، میرکل کے اتحادیوں کا مطالبہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ پس منظر کی چھان بین کر کے ان مہاجرین کو ترجیحی بنیادوں پر جرمنی میں پناہ دی جائے جو مسیحی عقیدے کے پیروکار ہوں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں کے حوالے سے ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ ان کے مخالفین کی طرف سے تو ڈالا ہی جا رہا ہے، اب ان کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی حلیف جماعتیں بھی ان پر تنقید کر رہی ہیں۔ صوبے باویریا میں سی ڈی یو کی اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) نے مطالبہ کیا ہے کہ میرکل امیگریشن قوانین میں سختی لائیں اور تارکین وطن کے ثقافتی پس منظر کی بھرپور چھان بین کریں۔

اس حوالے سے باویریا میں حکمران سی ایس یو نے ایک اعلامیے میں کہا، ’’مستقبل میں ان مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دی جانا چاہیے جو کہ مغربی اور مسیحی اقدار کے حامل ہوں۔‘‘

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے قوانین غیر قانونی تارکین وطن کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ ’’ریاست کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کس کو ملک میں رہنے کی اجازت دیتی ہے۔‘‘

سی ایس یو کا موقف ہے کہ سالانہ دو لاکھ سے زائد مہاجرین کو جرمنی آنے نہ دیا جائے۔ اس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مسلمان خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کر دی جائے۔

یہ اعلامیہ جمعے اور ہفتے کے روز سی ایس یو کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ سی ایس یو کا مطالبہ ہے کہ دوہری شہریت پر بھی پابندی عائد کی جائے اور ان تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی کارروائی تیز کی جائے جو پناہ دیے جانے کے قانونی معیارات پر پورا نہ اترتے ہوں۔

میرکل کی یہ حلیف جماعت چاہتی ہے کہ حکومت جرمن سرحد پر ٹرانزٹ زونز قائم کرے تاکہ ملک میں داخلے سے قبل ہی مہاجرین کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

جرمن چانسلر نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا تھا کہ تمام مہاجرین جرمنی ’اچھی نیت‘ کے ساتھ نہیں آ رہے، جس سے انہوں نے یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ بھی غالباﹰ مہاجرین کی جانچ پڑتال کے حق میں ہیں۔

حالیہ چند ماہ میں جرمنی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں اور ان میں مہاجرین کا پس منظر رکھنے والوں کے تعلق کے سامنے آنے کے بعد جرمنی میں یہ مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے کہ مہاجرین کو بلاتفریق ملک میں نہ آنے دیا جائے بلکہ اس حوالے سے کچھ قواعد و ضوابط طے کر لیے جائیں۔