1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسیحی جوڑے کا قتل، پانچ مجرموں کو موت کی سزا

ایک پاکستانی عدالت نے ایک مسیحی جوڑے کو جلا کر ہلاک کرنے کے جرم میں پانچ افراد کو موت کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ اسی واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں نصف درجن سے زائد دیگر مجرموں کو دو برس تک سزائیں سنائی گئی ہیں۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر کوٹ رادھا کشن میں ایک مسیحی جوڑے کو جلا کر ہلاک کرنے کے جرم میں پانچ مجرموں کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے موت سزا کا حکم سنایا ہے۔ عدالت کے جج چوہدری محمد اعظم نے ان تمام ملزموں پر فی کس دولاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے سنائی جانے والی موت کی سزا کی توثیق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ابھی ہونا باقی ہے۔ اس توثیق عمل کے بعد مجرمین سپریم کورٹ اور صدرِ پاکستان  سے معافی کی اپیلیں بھی کر سکتے ہیں۔

کوٹ رادھا کشن میں جلا کر راکھ کر دیے جانے والے جوڑے شہزاد مسیح اور اُس کی بیوی صائمہ عرف شمع اپنے پیچھے تین بچے  چھوڑ گئے ہیں۔ اس ان پڑھ میاں بیوی کو قرآن سوزی کے جھوٹے الزام کے تحت ہلاک کیا گیا تھا۔ اِس افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے سماجی حلقوں کی جانب سے احتجاج کے نتیجے میں سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا تھا۔

شہزاد اور شمع کو ہلاک کرنے کا واقعہ سن 2014 میں رونما ہوا تھا۔ یہ جوڑا اینٹیں بنانے کے بھٹے پر کام کرتا تھا اور ان کو نسل در نسل مزدوری (Binded Labour) کا بھی سامنا تھا۔ اس جوڑے کے وکیل ریاض انجم کے مطابق ایک سو تین افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن خصوصی عدالت کے جج چوہدری محمد اعظم نے نوے افراد کو عدم ثبوتوں اور ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ بری کیے جانے والوں میں اُس بھٹے کا مالک بھی شامل ہے، جہاں شمع اور شہزاد مزدوری کیا کرتے تھے۔

عدالت میں سینیئر وکیل استغاثہ خرم خان نے بھی پانچ مجرموں کو موت کی سزا دینے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ خرم خان کے مطابق پھانسی کی سزا پانے والے مجرموں پر مسیحی جوڑے کو گھسیٹنے، تشدد کرنے اور پھر جلا کر ہلاک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور استغاثہ نے اپنی شہادتوں سے یہ ثابت کر دیا کہ اِس وقوعے کے بڑے اور مرکزی مجرم یہی لوگ تھے۔

پاکستانی فوجداری قانون کے مطابق موت کی سزا سنانے کے بعد ہی مجرم کو پھانسی کی کوٹھری میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور یہ اِس میں اُس وقت وہاں رہتا ہے، جب تک پھانسی کی سزا اعلیٰ عدالت ختم نہ کر دے یا پھر اسے تختہٴ دار پر لٹکا نہیں دیا جائے۔