1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسیحیت میں اصلاحات کے محرک مارٹن لوتھر کون تھے؟

31 اکتوبر 1517ء کو مارٹن لوتھر نے کلیسا میں اصلاحات سے متعلق 95 دلائل پر مشتمل ایک مسودہ پیش کر کے مسیحی دنیا میں جس انقلاب کی بنیاد رکھی تھی، اس کا نتیجہ مسیحیت کی تقسیم کی شکل میں نکلا تھا۔ کشور مصطفیٰ کی تحریر

جرمن سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ اس نے نہ صرف قد آور فلسفی اور الہٰیات دان، ادیب، مفکر، شہرہ آفاق موسیقار، سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دینے والے محققین اور موجد پیدا کیے بلکہ شعور و آگہی کا سر چشمہ بننے والی بہت سی شخصیات، جنہیں عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جاتا ہے، کا تعلق بھی اسی زمین سے رہا ہے۔ دو عالمی جنگوں میں سب سے زیادہ تباہی کا شکار ہونے والے اس یورپی ملک کی ایک بہت بڑی قوت یہ رہی کہ اس نے اپنی تاریخ کو ہمیشہ یاد رکھا ہے۔ اسی لیے جرمنی کے ہر گوشے میں کوئی نہ کوئی یادگار نظر آتی ہے، جو اس لیے قابل دید ہوتی ہے کہ اس کے ذریعے فن تعمیر اور جمالیاتی حِس کے امتزاج سے پیدا ہونے والی خوبصورتی کو محفوظ کر لیا گیا ہوتا ہے۔

ٹھیک پانچ سو سال قبل اس دور کے پاپائے روم کے خلاف تحریک شروع کرنے والے جرمن پادری اور ماہر الہٰیات مارٹن لوتھر کا تعلق جرمن صوبے سیکسنی سے تھا۔ چند برس پہلے کا ذکر ہے کہ اپنی ایک جرمن دوست کے ساتھ میں جرمن صوبے سیکسنی کے مشرق میں واقع شہر ویٹنبرگ کی سیر کو گئی تھی۔ یہ وہی شہر ہے جسے 1938ء میں سرکاری طور پر ’لوتھر اشٹڈ‘ یعنی مارٹن لوتھر کا شہر قرار دیا گیا تھا۔ اس شہر کا طرز تعمیر اور اس میں پائی جانے والی رومانویت نہایت پرکشش لگے۔ اس چھوٹے سے شہر کی خوبصورتی کی ایک اور وجہ اس کا دو دریاؤں ایلبے اور ڈیساؤ پر واقع ہونا بھی ہے۔ میری طرح بہت سے سیاح لوتھر کے اس شہر کو دیکھنے آئے ہوئے تھے اور سب ہی کے قدم آگسٹینیئن مونیسٹری یا خانقاہ کی طرف بڑھ رہے تھے، جہاں سے مارٹن لوتھر نے اپنی مذہبی اصلاحی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں بھی وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ وہیں زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی اس شہر میں کئی ایسے مقامات ہیں، جنہیں یونیسکو کی طرف سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔

Mustafa Kishwar Kommentarbild App

کشور مصطفیٰ، سربراہ ڈی ڈبلیو اردو

مارٹن لوتھر کی مختصر سوانح

جرمن صوبے سیکسنی کے شہر آئس لیبن میں 10 نومبر 1483ء کو پیدا ہونے والے مارٹن لوتھر میں بہت کم سنی ہی سے غیر معمولی ذہنی اور فکری صلاحیتیں پائی جاتی تھیں۔ انہوں نے 17 برس کی عمر میں شہر ایرفُرٹ کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور الہٰیات کے شعبے سے ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ 1512ء میں لوتھر نے ویٹنبرگ کی یونیورسٹی سے الہٰیات میں ہی پی ایچ ڈی کی اور اسی درس گاہ میں پڑھانے بھی لگے۔ اپریل 1523ء میں مارٹن لوتھر نے کاترینا فون بورا نامی ایک راہبہ سے شادی کر لی۔ سیکسنی کے اُس وقت کے حکمران نے مارٹن لوتھر اور اُن کی اہلیہ کو شادی کے تحفے کے طور پر ویٹنبرگ میں قائم  آگسٹینیئن راہب خانہ دے دیا۔ بعد میں یہ جرمن پادری اور ان کی اہلیہ چھ بچوں کے والدین بنے۔

روم میں ویٹیکن کی طاقت اور پاپائے روم کے نظریات اور اُن کی طرف سے جاری کردہ مذہبی احکامات کے خلاف لڑنا لوتھر کے لیے آسان نہ تھا۔ سلطنت روم کا جاہ و جلال ایک طرف اور لوتھر کی فکری اور علمی جدوجہد دوسری طرف، دونوں کا تصادم بہت شدید تھا تاہم لوتھر نے ہمت نہ ہاری۔ وہ مسیحی دنیا کو جس جہت پر دیکھنا چاہتے تھے، اُس میں کامیاب تو ہوئے تاہم اُن کی صحت تیزی سے گرتی گئی اور 62 سال کی عمر میں 18 فروری 1546ء کو انہوں نے اُسی شہر ’آئس لیبن‘ میں، جہاں اُن کی پیدائش ہوئی تھی، اس دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔ اُن کی تدفین شہر ویٹنبرگ کے کاسل چرچ میں ہوئی تھی۔

لوتھر کا پاپائے روم کو چیلنج 

مارٹن لوتھر کو 1515ء میں صوبے تھیورنگیا کی 11 خانقاہوں کا ناظم مقرر کیا گیا تھا۔ 1516 ء میں Johann Tetzel ویٹیکن کے خصوصی نمائندہ برائے جرمنی تھے۔ انہوں نے جرمنی آ کر پاپائے روم کی طرف سے جاری کردہ معافی نامے کی فروخت کا کام شروع کیا۔ اُس وقت پاپائے روم مسیحی باشندوں کو یہ معافی نامہ دیا کرتے تھے  تاکہ وہ ان معافی ناموں کے ساتھ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کریں اور اپنی نجات کی راہ ہموار کر لیں۔ مسیحی عقیدے کے مطابق جس کے پاس یہ معافی نامہ ہوگا، اُسے بعد از موت کسی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پوپ کے خصوصی مندوب برائے جرمنی نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس معافی نامے کی فروخت سے حاصل کردہ رقم سے سینٹ پیٹرز بسیلیکا، جو آج کی طرح تب بھی ویٹیکن کا سب سے بڑا کلیسا اور مسیحیت کی طاقت کا محور تھا، اُس کی تمیر نو کی جائے گی۔ مارٹن لوتھر نے مسیحی عقیدے کی بہت سی دیگر روایات کے ساتھ ساتھ Salvation یا پاپائے روم کی طرف سے مسیحی باشندوں کے گناہوں کی معافی بذریعہ معافی نامہ اور اس معافی نامے کی فروخت اور اس کے پیسوں سے ویٹیکن پر کیے جانے والے اخراجات جیسے اہم معاشرتی اور اقتصادی معاملات پر پاپائے روم کو چیلنج کر دیا تھا۔

Deutschland Eisleben | Geburtshaus Martin Luther (picture-alliance/Klaus Nowottnick)

جرمن صوبے سیکسنی کے شہر آئس لیبن کے اس گھر میں مارٹن لوتھر 10 نومبر 1483ء کو پیدا ہوئے تھے

لوتھر کے 95 نکات

اکتیس اکتوبر 1517 ء کو مارٹن لوتھر نے پوپ کی چند بنیادی مذہبی افکار اور ان پر عمل درآمد کی شدید مذمت کرتے ہوئے منطق، الہٰیات اور علمی دلائل سے انہیں فسق ثابت کرنے کے لیے 95 نکات پر مشتمل ایک خط اپنے بشپ کے نام تحریر کیا تھا۔ اس خط میں لوتھر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ گناہ اور اس کی معافی دراصل ہیں کیا اور بہت شدت سے اس امر پر بھی زور دیا کہ گناہوں کی معافی دینے کا اختیار صرف خدا کی ذات کو حاصل ہے۔ لوتھر کا کہنا تھا کہ پاپائے روم اپنے پیروکاروں کو اپنے طور پر گناہ گار قرار دیتے ہوئے انہیں خود تو سزا دے سکتے ہیں تاہم ان انسانوں کے عمومی گناہوں کی سزا صرف خدا ہی دے سکتا ہے اور پاپائے روم کو چاہیے کہ وہ انسانوں میں اس آگہی کی کوشش کریں کہ انہیں گناہوں کی سزا سے بری ہونے کے لیے صرف خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ پوپ کا انسانوں سے تعلق صرف اس دنیا تک محدود ہے اور موت کے بعد عالم برزخ میں یہ تعلق ختم ہو جاتا ہے۔

لوتھر نے اپنی چند تصانیف میں یہ سوال بھی اُٹھایا تھا کہ آیا پوپ کے علم میں یہ ہے کہ مذہب کے نام پر کس طرح انسانوں کا استحصال ہو رہا ہے؟ لوتھر عقیدے کو کاروبار بنانے کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے تمام عمر اس کے لیے جدوجہد کی تھی۔

Deutschland Wittenberg Reformationstag (Getty Images/AFP/J. Macdougall)

بائبل یا انجیل کے جرمن زبان میں پہلے ترجمے کا سہرا مارٹن لوتھر ہی کے سر ہے

لوتھر کے خلاف اقدامات

مارٹن لوتھر کی اصلاحات کی مہم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 3 جنوری 1521ء کو اُس وقت کے پوپ لیو دہم نے انہیں ایکس کمیونیکیٹ یا مسیحی برادری سے خارج کر دیا تھا۔ اُس کے بعد رومن شہنشاہ چارلس پنجم نے جرمن شہر وؤرمز میں لوتھر کے خلاف مقدمہ چلایا جو 28 جنوری تا 25 مئی 1521ء تک جاری رہا۔ اُس وقت کے سیکسنی کے حکمران نے کہا تھا کہلوتھر پر مقدمہ اس شرط پر چلایا جائے کہ نہ تو انہیں گرفتار کیا جائے اور نہ ہی انہیں جسمانی اذیت دی جائے۔ اس پر چارلس پنجم نے مارٹن لوتھر کو ملحد قرار دیتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔ ساتھ ہی ان کی تصانیف کو نذر آتش کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔ ان احکامات میں یہ بھی شامل تھا کہ لوتھر کو غذا یا پناہ دینے والے ہر فرد کو مجرم قرار دے دیا جائے گا اور لوتھر کے قاتل کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جائے گی۔

دریں اثناء سیکسنی کے حکمران فریڈرک سوئم نے نقاب پوش فوجیوں کی مدد سے لوتھر کو جرمن شہر آئیزناخ میں وارٹبُرگ کے قلعے میں پہنچایا اور انہیں وہاں چھپائے رکھا۔ ایک سال وہاں چھپائے رکھنے کے بعد 6 مارچ 1522ء کو لوتھر کو خفیہ طور پر واپس اُن کے شہر ویٹنبرگ پہنچا دیا گیا۔ اس کے اگلے برس انہوں نے شادی کی اور وہیں اپنی اہلیہ کے ساتھ خانقاہ چلا نے لگے۔

Reisen 2017 - Lutherhaus Wittenberg (picture-alliance/Bildagentur-online/Exß)

وٹنبرگ میں لوتھر ہاؤس

لوتھر کی کامیابی اور علمی خدمات

بائبل یا انجیل کے جرمن زبان میں پہلے ترجمے کا سہرا مارٹن لوتھر ہی کے سر ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بہت سی حمدیہ شاعری بھی کی، جسے شہرہ آفاق جرمن موسیقاروں نے موسیقی کے قالب میں ڈھالا۔ مارٹن لوتھر کی تحریک جن دنوں عروج پر تھی، اُس وقت دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس جرمنی ہی میں ایک جرمن موجد گوٹنبرگ کی کوششوں سے ایجاد ہو چکا تھا۔ لوتھر کو اپنی تصانیف کی اشاعت میں اس سے بہت مدد ملی اور ان کی تحریریں عوام تک تیزی سے پہنچیں۔ اس تحریک میں بہت زیادہ قوت تھی اور اس نے یورپ کے عوام کو روم کے تسلط سے آزاد ہونے کی ترغیب دلائی۔ عوام کی طاقت کے آگے حکمران اکثر کمزور پڑ جاتے ہیں۔ تاریخ کے اس عہد میں ایک اور اہم واقعے نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ وہ یہ کہ اس وقت ’مقدس رومن شہنشاہ‘ چارلس پنجم ترکوں کے خلاف جنگوں میں مصروف تھا۔ اُس کی توجہ جنگ کے میدانوں پر مرکوز تھی جبکہ مارٹن لوتھر عام مسیحی باشندوں کے اذہان کو متاثر کرتے رہے۔

یہ تمام تفصیلات گرچہ میں تاریخ کی کتابوں میں پڑھ چکی تھی تاہم مارٹن لوتھر کے شہر وٹنبرگ جا کر وہاں اُن کی خانقاہ، لائبریری اور اُن کی روزمرہ زندگی کی تصویری شکل اور چھوٹے چھوٹے ماڈلز، خاص طور سے خانقاہ میں وہ اور ان کی اہلیہ کس طرح کاشت کاری کیا کرتے تھے اور اپنے مہمانوں کو کھیتی باڑی سکھاتے اور ان کے ساتھ مل کر طعام کا بندو بست کیا کرتے تھے، مذہبی رسومات کی ادائیگی کے طریقے اور لوتھر کے خطبات اور ان کے 95 نکات جو پتھر پر کنندہ ہیں، کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں خود پانچ صدی پہلے کے اسی دور میں پہنچ گئی ہوں۔